تحریک انصاف ہم خیال گروپ کے رہنماؤں کا استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
تحریک انصاف ہم خیال گروپ کے رہنماؤں کا استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 11 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد:تحریک انصاف ہم خیال گروپ کے رہنماؤں نے استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا۔
ملکی سیاست بالخصوص گلگت بلتستان میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں سابق گورنر، سابق وزیر اعلیٰ اور وزرا کی نئی سیاسی صف بندی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
گلگت بلتستان کے سابق گورنر، وزیر اعلیٰ اور وزرا کی وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کی رہائشگاہ آمد کے موقع پر استحکام پاکستان پارٹی میں گلگت بلتستان کے اہم سیاسی رہنماؤں کی شمولیت کا اعلان کیا گیا جس کے بعد نیا سیاسی منظر نامہ سامنے آ گیا۔
صدر استحکام پاکستان پارٹی اور وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کی رہائشگاہ پر پریس کانفرنس کے دوران تحریک انصاف کے ہم خیال گروپ کے رہنماؤں نے استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔
اس موقع پر گلگت بلتستان کے سابق گورنر جلال حسین مقپون اور سابق وزیر اعلیٰ حاجی گلبر خان نے آئی پی پی میں شمولیت اختیار کی جب کہ گلگت بلتستان اسمبلی کے سابق قائد حزب اختلاف کیپٹن شفیع بھی استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہو گئے۔
سابق وزرا فتح اللہ خان، شمس اللہ حق، حاجی شاہ بیگ اور دلشاد بانو بھی شمولیت کرنے والوں میں شامل ہیں۔ اسی طرح گلگت بلتستان سے خان اکبر خان، مولانا سلطان رئیس اور ایمان شاہ بھی استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہو گئے۔
اس موقع پر وزیر مملکت اور آئی پی پی کے سینئر رہنما عون چوہدری اور پارلیمانی سیکرٹری گل اصغر بگھور بھی موجود تھے جب کہ آئی پی پی پنجاب کے صدر رانا نذیر احمد خان، جنرل سیکرٹری و ایم پی اے شعیب صدیقی و دیگر رہنما بھی شریک تھے۔
اسلام آباد میں سربراہ استحکام پاکستان پارٹی علیم خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاست ہمارے لیے نئی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں جو کیمپین ہوگی ہماری پوری پارٹی ان ساتھیوں کے ساتھ ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان حکومت کے پاس اتنے وسائل ہیں کہ یہ حکومت پاکستان کو پیسے دے سکتی ہے ۔ گلگت بلتستان اربوں ڈالر صرف سیاحت سے حاصل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا پہلا ہدف یہ ہونا چاہیے کہ گلگت بلتستان کے عوام کو ٹیکسوں سے نجات دیں۔ پورے پاکستان سے فلائٹس گلگت بلتستان جارہی ہیں۔
علیم خان نے مزید کہا کہ میں نے اپنی پچھلی سیاسی جماعت سے بغاوت نہیں کی،بلکہ انہوں نے میرے ساتھ کی ہے۔ راستے جدا ہوگئے تو میں ان کی بات نہیں کرنا چاہوں گا۔ انہوں نے کہا کہ یاد پتا نہیں مجھے آتی ہوگی یا ان کو آتی ہوگی، مخالفت اس وقت ہوتی ہے جب مخالف اڑان میں ہو۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے حوالے سے بات کریں گے۔ میں پہلی مرتبہ گلگت بلتستان کی سیاست میں شامل ہوا ہوں اور ہم جی بی کے عوام کے سامنے اپنا منشور رکھیں گے، اگر انہوں نے مناسب سمجھا تو ہم جیت جائیں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسانحہ ترلائی اسلام آباد کی شدید مذمت، الزہرا انٹرنیشنل قرآنک انسٹی ٹیوٹ کی افتتاحی تقریب کامیابی سے منعقد پاک فوج کی کس صوبےمیں کتنی نمائندگی ہے ؟تفصیلات و دستاویز سب نیوز پر کس صوبے سے کتنے فوجی شہید ہوئے؟ وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایوان میں اعدادوشمار پیش کردیے پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف اسحاق ڈار کا ترکیہ اور ایرانی وزرائے خارجہ سے رابطہ، ہم آہنگی جاری رکھنے پر اتفاق عافیہ صدیقی کیس: آئینی عدالت نے ہائیکورٹ کو وزیرِاعظم اور وفاقی وزرا کیخلاف کارروائی سے روک دیا سردار اختر مینگل کا قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ منظورCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا اعلان ہم خیال گروپ کے رہنماو ں کہ گلگت بلتستان گلگت بلتستان کے انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف
پڑھیں:
گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف —فائل فوٹومسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے، کسی پارٹی نے یہاں کسی منصوبے کی اینٹ بھی نہیں لگائی، جس جی بی کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا۔
گلگت میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ایئر پورٹ کے باہر اس کی سڑکوں کا حلیہ دیکھا تو افسوس ہوا، جو منصوبے ہم نے شروع کیے تھے وہ مکمل کیوں نہیں ہوئے؟ آخر وہ پیسہ کہاں لگایا گیا؟
نواز شریف کا کہنا ہے کہ جو سڑک میں نے شروع کی اسے خنجراب تک پہنچنا چاہیے تھا، ووٹ ملتا ہے یا نہیں، اللّٰہ جانتا ہے، ہم آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کر سکتے۔
اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور حمزہ شہباز سمیت پارٹی کے پارلیمانی رہنماؤں نے شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ آپ ووٹ دیں گے یا نہیں دیں گے، میں تب بھی آپ کے لیے بات کروں گا، شہباز شریف اور مریم نواز دونوں کو کہوں گا کہ یہاں آئیں، ایئر پورٹ کو بڑا کر کے یہاں بوئنگ طیارے آنے چاہیے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف سے کہوں گا کہ ایئر پورٹ کو بڑا کریں گے، میں ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آتا جاتا رہوں گا اور منصوبوں کی نگرانی کروں گا۔
اس سے قبل نواز شریف بذریعہ طیارہ گلگت پہنچے تھے، وفاقی وزیر امیر مقام، سابق وزیرِ اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن نے ایئر پورٹ پر ان کا استقبال کیا۔
وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، رانا ثناء اللّٰہ، سینیٹر پرویز رشید، پنجاب کی وزیر مریم اورنگزیب، سینیٹر انوشہ رحمٰن، کاظم پیرزادہ نواز شریف کے ہمراہ گلگت پہنچے ہیں۔
ترجمان مسلم لیگ ن شمس میر کے مطابق نواز شریف گلگت بلتستان میں ن لیگ کے امیدواروں، صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی عہدیداران سے ملاقاتیں اور خطاب کریں گے۔
واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر الیکشن 7 جون کو ہو گا۔