اسلام آباد(پ ر) پاکستان میں مملکتِ نیدرلینڈز کے سفارت خانے نے انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہنے کے لیے اپنی سالانہ ہیومن رائٹس ٹیولپ ایوارڈ کی تقریب منعقد کی۔
اس سال یہ باوقار ایوارڈ نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق ( این سی ایچ آر )  کو انسانی حقوق کے تحفظ، احتساب کے فروغ اور بنیادی آزادیوں کے دفاع میں اس کے مؤثر ادارہ جاتی کردار کے اعتراف میں پیش کیا گیا۔ نیدرلینڈز کے سفیر رابرٹ یان سیگرٹ نے یہ ایوارڈ این سی ایچ آر کی چیئرپرسن رابعہ جاویری آغا کو پیش کیا، جن کی قیادت کمیشن کے مشن کو آگے بڑھانے اور پاکستان بھر میں انسانی حقوق کی وکالت کو مضبوط بنانے میں نہایت اہم ثابت ہوئی ہے۔
ایوارڈ پیش کرتے ہوئے سفیر رابرٹ یان سیگرٹ نے کہاکہ ”نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق نے یہ ثابت کیا ہے کہ ادارے وہاں روشنی ڈال کر حقیقی تبدیلی لا سکتے ہیں جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہو۔ اس ایوارڈ کے ذریعے ہم آفاقی اقدار کے لیے اپنے مشترکہ عزم اور اس یقین کی توثیق کرتے ہیں کہ ترقی کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب جرات، ہمدردی سے ملتی ہے۔“ 
نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق( این سی ایچ آر )  کی چیئرپرسن رابعہ جاویری آغا نے کہاکہ ”یہ ایوارڈ ہر اس خاموش آواز، ہر اس نظر انداز کی گئی جدوجہد اور ہر اس کمزور روح کے نام ہے جس نے انصاف کی امید رکھنے کی جرات کی۔ میں ان سب کی کہانیاں اپنے ساتھ رکھتی ہوں اور جہاں وہ بول نہ سکے، وہاں میں بولتی رہوں گی۔“ 

نیویارک،پاکستانی امریکن طالبہ پرتیزاب حملے میں ملوث ملزم پانچ سال بعد گرفتار


انسانی حقوق کے لیے نیدرلینڈز کے سفیر وِم گیرٹس، جو اس وقت پاکستان کے دورے پر ہیں، نے بھی اس تقریب میں شرکت کی۔ اپنے قیام کے دوران انہوں نے حکومتی حکام، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے ملاقاتیں کیں اور انسانی حقوق سے متعلق مشترکہ ترجیحات پر تبادلۂ خیال کیا۔
انہوں نے کہا کہ ” میں پاکستان کی سول سوسائٹی کی سرگرمی، مضبوطی اور حوصلے سے بے حد متاثر ہوا ہوں۔ ہر گفتگو میں مجھے انسانی وقار، انصاف اور سب کے لیے مساوی حقوق کے لیے گہرا عزم نظر آیا۔“ 
اس تقریب میں وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف، اراکینِ پارلیمان، پاکستان کی سول سوسائٹی کے نمائندگان اور دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی۔

لاہور والو! پاک ویلز نیو وہیلز ایکسپو میں نئی گاڑیاں اور ٹیسٹ ڈرائیوز آپ کی منتظر

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: سی ایچ آر نیدرلینڈز کے حقوق کے کے لیے

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا