باڑہ:  ضلع خیبر میں دہشتگردی سے متاثرہ بارہ اور ملحقہ علاقوں میں تباہ شدہ تعلیمی اداروں کی بحالی کے لیے صوبائی حکومت کا تاریخی اقدام کر دیا۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے چین کی مالی اور تکنیکی معاونت سے 50 اسکولوں کی تعمیر نو اور ری ہیبلیٹیشن مکمل ہونے پر افتتاح کیا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبہ 3 ارب 21 کروڑ روپے کی لاگت سے کامیابی کے ساتھ مکمل کیا گیا جبکہ [بحال کیے گئے سکول فعال ہو چکے، ہزاروں طلبہ جدید تعلیمی سہولیات سے مستفید ہوں گے، منصوبے کے تحت 35 پرائمری، 7 مڈل، 7 ہائی اور ایک سینئر ہائی اسکول تعمیر نو کے بعد فعال کیے گئے ہیں۔سکولوں کی تعمیر نو مکمل ہونے کے بعد تمام اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کر دیے گئے، سکولوں میں شمسی توانائی، صاف پانی، ٹھنڈک اور صفائی کی بنیادی سہولیات فراہم کی گئی ہیں.

تعلیمی اداروں کی بحالی سے بارہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں تعلیمی سرگرمیاں دوبارہ بحال ہو گئیں۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ یہ منصوبہ محض عمارتوں کی تعمیر نہیں بلکہ آنے والی نسلوں میں سرمایہ کاری ہے. دہشتگردوں نے سکول گرائے جبکہ صوبائی حکومت نے مستقبل تعمیر کیا. تعلیم کے ذریعے انتہاپسندی کا جواب دیا جائے گا۔منصوبے کے تحت ہزاروں بچوں کو محفوظ اور معیاری تعلیمی ماحول میسر آئے گا۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار