ضلع خیبر میں دہشتگردی سے متاثرہ تباہ شدہ تعلیمی اداروں کی بحالی کیلئے تاریخی اقدام
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
باڑہ: ضلع خیبر میں دہشتگردی سے متاثرہ بارہ اور ملحقہ علاقوں میں تباہ شدہ تعلیمی اداروں کی بحالی کے لیے صوبائی حکومت کا تاریخی اقدام کر دیا۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے چین کی مالی اور تکنیکی معاونت سے 50 اسکولوں کی تعمیر نو اور ری ہیبلیٹیشن مکمل ہونے پر افتتاح کیا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبہ 3 ارب 21 کروڑ روپے کی لاگت سے کامیابی کے ساتھ مکمل کیا گیا جبکہ [بحال کیے گئے سکول فعال ہو چکے، ہزاروں طلبہ جدید تعلیمی سہولیات سے مستفید ہوں گے، منصوبے کے تحت 35 پرائمری، 7 مڈل، 7 ہائی اور ایک سینئر ہائی اسکول تعمیر نو کے بعد فعال کیے گئے ہیں۔سکولوں کی تعمیر نو مکمل ہونے کے بعد تمام اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کر دیے گئے، سکولوں میں شمسی توانائی، صاف پانی، ٹھنڈک اور صفائی کی بنیادی سہولیات فراہم کی گئی ہیں.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔