ایمنسٹی انٹرنیشنل کا پاکستان میں طلبہ یونینز پر پابندی ختم کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستانی طلبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ملک میں طلبہ یونینز پر 42 سال سے عائد پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ادارے نے اس پابندی کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ہیلتھ کارڈ کا اجرا، طلبہ یونین کی بحالی، آزاد کشمیر کابینہ نے اہم فیصلوں کی منظوری دے دی
پابندی اور انسانی حقوقمیڈیا رپورٹ کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ پاکستان میں طلبہ یونینز پر پابندی کے 42 سال بعد بھی لاکھوں طلبہ کے بنیادی حقوق معطل ہیں۔ ادارے نے واضح کیا کہ طلبہ یونینز پر یہ پابندی شہری سیاسی حقوق کے عالمی معاہدے (International Covenant on Civil and Political Rights) کے آرٹیکل 21 کی خلاف ورزی ہے، جو اجتماع اور تنظیم کی آزادی کو تحفظ دیتا ہے۔
ایمنسٹی نے مزید کہا کہ پاکستان میں طلبہ یونینز پر پابندی آزادی تنظیم (آرٹیکل 22) اور آزادی اظہار (آرٹیکل 19) کے اصولوں کے خلاف ہے۔ ادارے نے زور دیا کہ طلبہ یونینز آزاد اور جامع کیمپس کے قیام کے لیے ضروری ہیں تاکہ طلبہ اپنے مسائل پر بات کر سکیں اور تعلیمی اداروں میں مثبت تبدیلی لا سکیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق فعال طلبہ یونینز نہ صرف طلبہ کی نمائندگی کرتی ہیں بلکہ انہیں تعلیمی و سماجی مسائل کے حل میں بھی مضبوط بناتی ہیں۔ ادارے نے پاکستانی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر پابندی ختم کرے تاکہ طلبہ کو اپنے حقوق اور نمائندگی کا حق مل سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایمنسٹی انٹرنینشل طلبہ یونین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایمنسٹی انٹرنینشل طلبہ یونین ایمنسٹی انٹرنیشنل میں طلبہ یونینز پر پر پابندی کہ طلبہ
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔