سپریم جوڈیشل کونسل اجلاس: رولز میں ترامیم منظوری کا فیصلہ موخر
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
اسلام آباد: (نیوزڈیسک) سپریم جوڈیشل کونسل اجلاس میں رولز میں ترامیم کی منظوری کا فیصلہ موخر کر دیا گیا۔
سپریم جوڈیشل کونسل اجلاس کا اعلامیہ جاری ہو گیا جس کے مطابق اجلاس میں ججز کیخلاف 59 شکایات کا جائزہ لیا گیا۔
اعلامیہ کے مطابق 59 میں سے 50 شکایات کو داخل دفتر کر دیا گیا، 6 شکایات کو موخر جبکہ تین شکایات پر مزید کارروائی کا فیصلہ ہوا۔
8 شکایات کے جائزہ کے وقت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اجلاس میں نہیں بیٹھے، رولز میں ترامیم کی منظوری کا فیصلہ آئندہ اجلاس تک موخر کر دیا گیا۔
اعلامیہ کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل نے تین شکایات پر کارروائی کا فیصلہ کیا، 8 شکایات پر غور کے دوران کونسل کی تشکیل نو کی گئی۔
8 شکایات پر غور کیلئے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی جگہ چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کو شامل کیا گیا، نئے رولز کی تیاری آئندہ اجلاس تک موخر کر دی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سپریم جوڈیشل کونسل شکایات پر کا فیصلہ
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔