حکومت بلوچستان کیجانب 39 افراد انتہائی مطلوب قرار، معلومات پر انعام کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
حکومت نے 39 افراد کے بارے میں مدد دینے والوں کیلئے 5 لاکھ روپے سے لیکر 25 کروڑ روپے کے انعامات کا اعلان کیا ہے۔ مجموعی طور پر یہ رقم ایک ارب 38 کروڑ روپے بنتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان حکومت نے 39 افراد کے نام اور تصاویر شائع کرتے ہوئے انہیں انتہائی مطلوب دہشت گرد قرار دیا ہے۔ مذکورہ افراد کے سروں کی قیمت بھی مقرر کی ہے۔ جن میں کالعدم بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب اور مجید بریگیڈ کے کمانڈر رحمان گل کے علاوہ حیربیار مری اور براہمداغ بگٹی جیسے نام بھی شامل ہیں۔ حکومت کی جانب سے آج کوئٹہ کے بڑے اخبارات کے صفحہ اول پر "انتہائی مطلوب دہشتگرد" کے عنوان سے نصف صفحے کا ایک اشتہار شائع کیا گیا ہے، جس میں ان افراد کے نام، عرفیت، پتہ اور تصاویر شامل ہیں۔ اشتہار میں ان افراد کے بارے میں مدد دینے والوں کے لئے پانچ لاکھ روپے سے لے کر 25 کروڑ روپے کے انعامات کا اعلان کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر یہ رقم ایک ارب 38 کروڑ روپے بنتی ہے۔ اشتہار میں کہا گیا ہے کہ مستند، درست اور قابل عمل معلومات پر فوری کارروائی کی جائے گی، جبکہ اطلاع دینے والے کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رکھی جائے گی۔ سب سے زیادہ انعام کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے سربراہ بشیر زیب عرف کامریڈ بشیر اور بی ایل اے کی ذیلی تنظیم "مجید بریگیڈ" کے کمانڈر رحمان گل عرف استاد مرید کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ جن کے سروں کی قیمت 25، 25 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔ دونوں کا تعلق نوشکی سے بتایا جاتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کروڑ روپے افراد کے گیا ہے
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔