پاکستان افغانستان کے ساتھ حالت جنگ میں ہے، سیاست میں رخنہ نہیں ہونا چاہیے، وزیر دفاع خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت افغانستان کے ساتھ حالت جنگ میں ہے، ملکی سیاست میں کوئی رخنہ نہیں ہونا چاہیے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہاکہ اگر وزیراعظم سے اپوزیشن لیڈر کی ملاقات ہوتی ہے تو یہ خوش آئند ہے، پی ٹی آئی کی جانب سے محمود اچکزئی کو قائد حزب اختلاف بنانے کے پیچھے بھی ایک کہانی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان رمضان سے قبل افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف
انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا حکومت اگر پولیس کے ذریعے حالات کو کنٹرول کر سکتی ہے تو یہ اچھی بات ہے۔
انہوں نے وفاق اور خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کے درمیان ورکنگ ریلیشن قائم ہونے کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ ہم آہنگی پیدا ہونے سے ملک کی سیکیورٹی مضبوط ہوگی۔
خواجہ آصف نے کہاکہ سیکیورٹی فورسز کے جوانوں نے ملکی دفاع کے لیے اپنی جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔
انہوں نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ بیرون ملک بیٹھے افراد اب بھی منفی پروپیگنڈا کررہے ہیں، لیکن ملک کے اندر موجود لوگ محتاط ہوگئے ہیں کیوں قانون حرکت میں آ سکتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر دفاع نے عمران خان کے ماضی کے خیالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ موجودہ حالات میں ان کی تبدیلی کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
خواجہ آصف نے 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے بتایا کہ یہ آئندہ ایک دو مہینے میں آ جائےگی۔
مزید پڑھیں: بھارت افغانستان کے پیچھے چھپ کر پاکستان پر حملہ آور، ہمیں ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کرنا ہوگا، خواجہ آصف
انہوں نے تجویز دیتے ہوئے کہاکہ آئینی ترمیم میں یکساں نصاب، فیملی پلاننگ اور لوکل گورنمنٹ سے متعلق قانون سازی شامل ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ آبادی میں بے لگام اضافہ ایک بڑا چیلنج ہے، جبکہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومتیں لوکل گورنمنٹ کے معاملات پر مکمل اختیار رکھتی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews افغانستان حالتِ جنگ خواجہ آصف سیکیورٹی فورسز وزیر دفاع وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغانستان حالت جنگ خواجہ ا صف سیکیورٹی فورسز وزیر دفاع وی نیوز خواجہ ا صف وزیر دفاع نے کہاکہ انہوں نے
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔