بنگلہ دیش: الیکشن سے ایک روز قبل جماعت اسلامی رہنما سے ایئرپورٹ پر 74 لاکھ ٹکا نقد رقم برآمد
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
بنگلہ دیشی پولیس کا کہنا ہے کہ ضلع نیل پھاماری کے سیدپور ایئرپورٹ پر حراست میں لیے گئے جماعت اسلامی کے ایک مقامی رہنما کے بیگ سے 74 لاکھ ٹکا نقد رقم برآمد کی گئی ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق ٹھاکرگاؤں جماعت اسلامی کے امیر (ضلعی سربراہ) بلال الدین بدھ کی صبح قریباً 10 بج کر 55 منٹ پر یو ایس بنگلہ ایئرلائنز کی پرواز کے ذریعے ڈھاکہ سے سیدپور پہنچے۔
مزید پڑھیں: ووٹ خریدنے والوں کو پولیس کے حوالے کیا جائے، امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش ڈاکٹر شفیق الرحمان
پولیس کے مطابق خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ان کے سامان کی تلاشی لی گئی، جس کے دوران بڑی مقدار میں نقد رقم برآمد ہوئی۔
سیدپور تھانے کے آفیسر انچارج نے صحافیوں کو بتایا کہ گنتی کا عمل مکمل ہونے کے بعد برآمد شدہ رقم 74 لاکھ ٹکا نکلی۔
پولیس کے مطابق بلال الدین نے دعویٰ کیاکہ رقم ان کے کاروباری معاملات سے متعلق ہے، تاہم وہ فوری طور پر رقم کے ذرائع سے متعلق دستاویزات پیش نہ کر سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان سے رقم کے ماخذ اور استعمال کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی۔
پولیس کے مطابق حراست کے بعد جماعت اسلامی رہنما کی طبیعت ناساز ہوئی جس پر انہیں ایمبولینس کے ذریعے سیدپور کے ایک اسپتال میں منتقل کیا گیا اور بعد ازاں مزید علاج کے لیے رنگپور بھیج دیا گیا۔
واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک ویڈیو پیغام میں بلال الدین نے کہاکہ یہ رقم گارمنٹس کے کاروبار سے متعلق تھی۔ انہوں نے خود کو ٹھاکرگاؤں کے ڈگری کالج کا استاد بھی بتایا۔
جماعت اسلامی نے پولیس کا مؤقف مسترد کردیادوسری جانب جماعت اسلامی نے پولیس کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اس کارروائی کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کا من گھڑت ڈرامہ قرار دیا۔
جماعت کے مرکزی دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل نے کہاکہ بینک بند ہونے کے باعث کاروباری مقاصد کے لیے نقد رقم لے جا رہے تھے، جو ایک معمول کی بات ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بلال الدین کو ایئرپورٹ پر جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا اور ذہنی دباؤ کے باعث ان کی طبیعت خراب ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی اپنی سرگرمیاں شفاف طریقے سے چلاتی ہے اور انتخابات سے قبل انتظامیہ کے بعض حلقوں کا رویہ جانبدارانہ ہے۔
تاحال حکام نے یہ اعلان نہیں کیا کہ آیا اس معاملے میں باقاعدہ مقدمہ درج کیا جائے گا یا نہیں، جبکہ تحقیقات جاری ہیں۔
بنگلہ دیش نیشلسٹ پارٹی نے سیاسی رہنما سے نقد رقم برآمد ہونے پر سوالات اٹھا دیےادھر بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ ووٹنگ سے ایک دن قبل سیدپور ایئرپورٹ پر جماعت اسلامی کے ضلعی رہنما سے 50 لاکھ ٹکا سے زیادہ رقم کی برآمدگی اخلاقی دیوالیہ پن، ناجائز اثر و رسوخ اور انتخابی ضابطوں کی خلاف ورزی کی نشاندہی کرتی ہے۔
بی این پی کی الیکشن مینجمنٹ کمیٹی کے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کمیٹی کے ترجمان اور پارٹی چیئرپرسن کے مشیر مہدی امین نے واقعے کے حالات پر سوال اٹھائے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب ملک بھر میں کاروباری سرگرمیاں کئی روز سے معطل ہیں تو اتنی بڑی رقم تجارتی مقاصد کے لیے ساتھ لے جانے کا جواز پیش کرنا مشکل ہے۔
مزید پڑھیں: جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا بھارتی سرحد کے ساتھ فینی میں ڈیم تعمیر کرنے کا وعدہ
مہدی امین نے کہاکہ یہ واقعہ ایک سیاسی طور پر تنہا جماعت کی جانب سے غیر اخلاقی اثر و رسوخ کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا نقد ادائیگیوں کے ذریعے ووٹ خریدنے کے الزامات جماعت اسلامی کے انصاف اور بدعنوانی کے خلاف مؤقف سے مطابقت رکھتے ہیں؟
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بنگلہ دیشی پولیس جماعت اسلامی رہنما نقد رقم برآمد وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیشی پولیس جماعت اسلامی رہنما وی نیوز جماعت اسلامی کے ایئرپورٹ پر بلال الدین بنگلہ دیش کرتے ہوئے کے مطابق پولیس کے کا کہنا کے لیے
پڑھیں:
سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 60 لاکھ ڈالر کم ہو کر 22 ارب 66 کروڑ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ گزشتہ ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 60 لاکھ ڈالر کم ہو کر 22 ارب 66 کروڑ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔ مرکزی بینک کے مطابق کمرشل بینکوں کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی کمی ہوئی، جس کے بعد ان کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ ڈالر رہ گئے۔