بنگلہ دیشی پولیس کا کہنا ہے کہ ضلع نیل پھاماری کے سیدپور ایئرپورٹ پر حراست میں لیے گئے جماعت اسلامی کے ایک مقامی رہنما کے بیگ سے 74 لاکھ ٹکا نقد رقم برآمد کی گئی ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق ٹھاکرگاؤں جماعت اسلامی کے امیر (ضلعی سربراہ) بلال الدین بدھ کی صبح قریباً 10 بج کر 55 منٹ پر یو ایس بنگلہ ایئرلائنز کی پرواز کے ذریعے ڈھاکہ سے سیدپور پہنچے۔

مزید پڑھیں: ووٹ خریدنے والوں کو پولیس کے حوالے کیا جائے، امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش ڈاکٹر شفیق الرحمان

پولیس کے مطابق خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ان کے سامان کی تلاشی لی گئی، جس کے دوران بڑی مقدار میں نقد رقم برآمد ہوئی۔

سیدپور تھانے کے آفیسر انچارج نے صحافیوں کو بتایا کہ گنتی کا عمل مکمل ہونے کے بعد برآمد شدہ رقم 74 لاکھ ٹکا نکلی۔

پولیس کے مطابق بلال الدین نے دعویٰ کیاکہ رقم ان کے کاروباری معاملات سے متعلق ہے، تاہم وہ فوری طور پر رقم کے ذرائع سے متعلق دستاویزات پیش نہ کر سکے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان سے رقم کے ماخذ اور استعمال کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی۔

پولیس کے مطابق حراست کے بعد جماعت اسلامی رہنما کی طبیعت ناساز ہوئی جس پر انہیں ایمبولینس کے ذریعے سیدپور کے ایک اسپتال میں منتقل کیا گیا اور بعد ازاں مزید علاج کے لیے رنگپور بھیج دیا گیا۔

واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک ویڈیو پیغام میں بلال الدین نے کہاکہ یہ رقم گارمنٹس کے کاروبار سے متعلق تھی۔ انہوں نے خود کو ٹھاکرگاؤں کے ڈگری کالج کا استاد بھی بتایا۔

جماعت اسلامی نے پولیس کا مؤقف مسترد کردیا

دوسری جانب جماعت اسلامی نے پولیس کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اس کارروائی کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کا من گھڑت ڈرامہ قرار دیا۔

جماعت کے مرکزی دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل نے کہاکہ بینک بند ہونے کے باعث کاروباری مقاصد کے لیے نقد رقم لے جا رہے تھے، جو ایک معمول کی بات ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ بلال الدین کو ایئرپورٹ پر جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا اور ذہنی دباؤ کے باعث ان کی طبیعت خراب ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی اپنی سرگرمیاں شفاف طریقے سے چلاتی ہے اور انتخابات سے قبل انتظامیہ کے بعض حلقوں کا رویہ جانبدارانہ ہے۔

تاحال حکام نے یہ اعلان نہیں کیا کہ آیا اس معاملے میں باقاعدہ مقدمہ درج کیا جائے گا یا نہیں، جبکہ تحقیقات جاری ہیں۔

بنگلہ دیش نیشلسٹ پارٹی نے سیاسی رہنما سے نقد رقم برآمد ہونے پر سوالات اٹھا دیے

ادھر بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ ووٹنگ سے ایک دن قبل سیدپور ایئرپورٹ پر جماعت اسلامی کے ضلعی رہنما سے 50 لاکھ ٹکا سے زیادہ رقم کی برآمدگی اخلاقی دیوالیہ پن، ناجائز اثر و رسوخ اور انتخابی ضابطوں کی خلاف ورزی کی نشاندہی کرتی ہے۔

بی این پی کی الیکشن مینجمنٹ کمیٹی کے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کمیٹی کے ترجمان اور پارٹی چیئرپرسن کے مشیر مہدی امین نے واقعے کے حالات پر سوال اٹھائے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ملک بھر میں کاروباری سرگرمیاں کئی روز سے معطل ہیں تو اتنی بڑی رقم تجارتی مقاصد کے لیے ساتھ لے جانے کا جواز پیش کرنا مشکل ہے۔

مزید پڑھیں: جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا بھارتی سرحد کے ساتھ فینی میں ڈیم تعمیر کرنے کا وعدہ

مہدی امین نے کہاکہ یہ واقعہ ایک سیاسی طور پر تنہا جماعت کی جانب سے غیر اخلاقی اثر و رسوخ کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا نقد ادائیگیوں کے ذریعے ووٹ خریدنے کے الزامات جماعت اسلامی کے انصاف اور بدعنوانی کے خلاف مؤقف سے مطابقت رکھتے ہیں؟

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بنگلہ دیشی پولیس جماعت اسلامی رہنما نقد رقم برآمد وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بنگلہ دیشی پولیس جماعت اسلامی رہنما وی نیوز جماعت اسلامی کے ایئرپورٹ پر بلال الدین بنگلہ دیش کرتے ہوئے کے مطابق پولیس کے کا کہنا کے لیے

پڑھیں:

ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں اور انتخابی دستاویزات کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔یہ درخواست میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، جس میں ثاقب چدھڑ کے کاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس نااہلی کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے لہٰذا ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔درخواست گزار کے مطابق رکن اسمبلی پر ایک خاتون کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی تحائف اور جائیداد بطور تحفہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔

(جاری ہے)

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، اس لئے ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام موجودہ اور سابقہ اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شفافیت اور احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ انتخابی اور مالی ریکارڈ تک رسائی ضروری ہے، تاکہ حقائق کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر