معروف سکالر اور عالم دین سید ذیشان حسین الحسینی کا انقلاب اسلامی کی سالگرہ کے حوالے سے انٹرویو
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
اپنے انٹرویو میں معروف عالم دین کا کہنا تھا کہ انقلاب کو شروع سے ہی چیلنجز درپیش رہے ہیں تاہم انقلاب نے ان چینلجز کو مواقع میں تبدیل کیا ہے۔ آج ایران پہلے سے زیادہ مضبوط اور طاقتور ہے، دفاعی ٹیکنالوجی میں حیرت انگیز ترقی کی ہے۔ متعلقہ فائیلیںسید ذیشان حسین الحسینی گلگت بلتستان کے معروف سکالر، عالم دین اور القرآن اسلامی تحقیقاتی مرکز کے سربراہ ہیں۔ اسلامی انقلاب کے امور پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے انقلاب اسلامی کی 47 ویں سالگرہ کے حوالے سے ذیشان حسین الحسینی سے خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا ہے، جس میں ان کا کہنا تھا کہ خطے اور دنیا میں استقامت اور مقاومت انقلاب اسلامی کی ہی مرہون منت ہے۔ 47 سال سے ملت ایران نے بھرپور استقامت دکھائی ہے۔ اہلسنت علماء کہتے ہیں کہ یہ انقلاب انقلاب ایران نہیں بلکہ انقلاب اسلامی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انقلاب کو شروع سے ہی چیلنجز درپیش رہے ہیں، تاہم انقلاب نے ان چینلجز کو مواقع میں تبدیل کیا ہے۔ آج ایران پہلے سے زیادہ مضبوط اور طاقتور ہے، دفاعی ٹیکنالوجی میں حیرت انگیز ترقی کی ہے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انقلاب اسلامی
پڑھیں:
شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
( ملک رحمان)صوبہ خیبر پختونخوا کے پہاڑی ضلع شانگلہ میں ایک نہایت افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے جس میں ایک مکان کی چھت گرنے سے 6 بچے جاں بحق ہو گئے ہیں۔
یہ واقعہ ضلع شانگلہ کی تحصیل الپورئی میں پیش آیا، جس میں گزشتہ رات مکان کی چھت اچانک ڈھہ گئی اور گھر میں موجود بچے ملبے تلے دب گئے، واقعے میں ایک بچہ زخمی بھی ہو گیا ہے، جسے طبی امداد دی جا رہی ہے۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبے سے تمام لاشیں اور زخمی بچی کو نکال لیا ہے، جاں بحق بچوں میں ناظرہ، سمیرا، رضوان، نایاب، حیا نور اور عمیرہ بی بی شامل ہیں، جن کی عمریں 5 سے 14 سال کے درمیان ہیں۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
پولیس کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے بچوں کے والد جہان بشر کا کچھ ہی عرصہ قبل انتقال ہوا تھا، اور ان کا مکان کچا تھا۔ مرنے والوں میں پانچ لڑکیاں اور ایک لڑکا شامل ہیں۔