نسیم شاہ نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا، پی ایس ایل آکشن کی سب سے بڑی بولی کیچ کرلی
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
پاکستان سپر لیگ نے بدھ کے روز تاریخ رقم کر دی جب لیگ کے پہلے باقاعدہ پلیئر آکشن میں ریکارڈ بولیاں لگیں اور نوجوان فاسٹ بولر نسیم شاہ 8 کروڑ 65 لاکھ روپے میں فروخت ہو کر ٹورنامنٹ کی تاریخ کے سب سے مہنگے کھلاڑی بن گئے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل 11 کے لیے کھلاڑیوں کی بولی، کس کھلاڑی کی کتنی قیمت لگی؟
پی ایس ایل کے 11 ویں ایڈیشن میں روایتی ڈرافٹ سسٹم کو ختم کر کے مکمل آکشن ماڈل متعارف کرایا گیا۔
The new Rawalpindi franchise get Naseem Shah!
PSL Auction updates: https://t.
— ESPNcricinfo (@ESPNcricinfo) February 11, 2026
فرنچائز مالکان نے کھل کر بولیاں لگائیں اور کئی بڑے نام پیچھے رہ گئے۔
مزید پڑھیے: پی ایس ایل 11: ٹیم راولپنڈی نے ریٹین کیے گئے کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کردیا
حتمی بولی کے بعد راولپنڈی نے نسیم شاہ کو حاصل کر کے تاریخ کی سب سے بڑی رقم ادا کی جبکہ کئی عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی بھی ان سے کم قیمت پر فروخت ہوئے۔
پی ایس ایل 11 کے 5 مہنگے ترین کھلاڑی
نسیم شاہ، راولپنڈی، 8 کروڑ 65 لاکھ روپے
فہیم اشرف، اسلام آباد یونائیٹڈ، 8 کروڑ 50 لاکھ روپے
ڈیرل مچل، راولپنڈی، 8 کروڑ 5 لاکھ روپے
فخر زمان، لاہور قلندرز، 7 کروڑ 95 لاکھ روپے
ڈیوڈ وارنر، کراچی کنگز، 7 کروڑ 90 لاکھ روپے
مزید پڑھیں: پی ایس ایل کی تاریخ کا پہلا پلیئرز آکشن، اعظم خان کو 3 کروڑ 25 لاکھ روپے میں کراچی کنگز نے خرید لیا
پی ایس ایل کے نئے آکشن فارمیٹ نے لیگ کی مالیاتی حرکیات کو یکسر بدل دیا ہے اور فرنچائزز کی حکمت عملی میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ایس ایل 11 پی ایس ایل کے مہنگے ترین کھلاڑی نسیم شاہ پی ایس ایل کے مہنگے ترین کھلاڑی نسیم شاہ مہنگے ترین کھلاڑی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ایس ایل 11 پی ایس ایل کے مہنگے ترین کھلاڑی نسیم شاہ مہنگے ترین کھلاڑی پی ایس ایل کے پی ایس ایل 11 لاکھ روپے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔