بیرسٹر گوہر نے خواجہ آصف کو کھری کھری سنا دیں
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
اسلام آباد: بیرسٹر گوہر نے خواجہ آصف کو کھری کھری سنا دیں، کہا کہ غیر ملکی نشریاتی ادارے کو فوج کے خلاف پہلا انٹرویو آپ نے دیا۔
عدلیہ پر حملہ کرنے والے آپ ہیں ، افواج کے کندھے پر بیٹھ کر سیاست نہ کریں۔
قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وفاقی وزیر نے کہا کہ دہشت گردی کے پیچھے پی ٹی آئی ہے، میں یہ کہتا ہوں کہ دہشت گرد جہاں بھی ہیں ہمارے دشمن ہیں، ہمارے گھروں پر قبضہ ہوا اور ہم غدار ہیں؟
انہوں نے کہا کہ فوج کے خلاف بات کرنے والے آپ ہیں اور غیر ملکی نشریاتی ادارے کو فوج کے خلاف پہلا انٹرویو آپ نے دیا، عدلیہ پر حملہ کرنے والے آپ ہیں اور کلبھوشن کے خلاف آج تک کوئی بیان نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی عدالت میں کلبھوشن کیس میں بھارت نے آپ کے موقف کو اپنایا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ افواج کے کندھے پر بیٹھ کر کوئی سیاست نہ کریں، خواجہ آصف نے آج تقسیم پیدا کی ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ ہمیں چاہیے تھا کہ دہشت گردی کے خلاف ایک پیغام دیتے، آج خواجہ آصف نے برادران یوسف کا کردار ادا کیا اور سوال اٹھایا کہ آپ فوج کو سیاست میں کیوں گھسیٹ رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل بیرسٹر گوہر نے خواجہ آصف نے کہا کہ کے خلاف
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔