data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260212-01-25
ڈھاکا (نمائندہ خصوصی) بنگلا دیش میں 13 ویں پارلیمانی انتخابات اور آئینی ترامیم کے لیے قومی ریفرنڈم آج منعقد ہو رہے ہیں۔شیخ حسینہ کی سول آمریت کے خاتمے کے بعد یہ بنگلا دیش کے تاریخی عام انتخابات ہوں گے جس میں جماعت اسلامی اور بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔انتخابات میں 2000 امیدوار 350 نشستوں کے لیے مقابلہ کر رہے ہیں۔ ان میں سے تقریباً 1400 پہلی بار انتخابات لڑ رہے ہیں۔ انتخابی کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق 600 سے زاید امیدوار 44 سال یا اس سے کم عمر کے ہیں۔سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں ، 9 لاکھ سیکورٹی اہلکار الیکشن ڈیوٹی دیں گے۔بنگلا دیش کی آبادی 17 کروڑ 30 لاکھ سے زاید ہے، تقریباً 12 کروڑ 70 لاکھ شہری ووٹ کے لیے رجسٹرڈ ہیں، جن میں تقریباً 50 لاکھ پہلی بار ووٹ دینے والے شامل ہیں، تقریباً 44 فیصد ووٹرز کی عمر 18 سے 37 سال کے درمیان ہے، جو ملک میں نوجوان آبادی کے بڑے تناسب کو ظاہر کرتی ہے۔برسوں کی پابندی کا سامنا کرنے والی جماعت اسلامی بی این پی کو سخت مقابلہ دے رہی ہے۔ جماعت اسلامی کی قیادت میں 11 جماعتوں کا اتحاد میدان میں ہے اور بعض تجزیوں کے مطابق بی این پی اور جماعت اسلامی کے درمیان ووٹوں کا فرق بہت کم (تقریباً 2 فیصد) رہ سکتا ہے۔2024 کی طلبہ تحریک کے رہنماؤں کی جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی بھی جماعت اسلامی کے اتحاد کا حصہ ہے اور نوجوان ووٹرز میں مقبول ہے۔شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ رجسٹریشن معطل ہونے کی وجہ سے انتخابات سے باہر ہے۔ تاہم، جائزوں کے مطابق ان کے سابق ووٹرز کی ایک بڑی تعداد اب بی این پی کو ووٹ دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی قیادت میں قائم اتحاد کو 44.

1 فیصد ووٹ ملنے کا امکان ہے جبکہ بنگلادیش جماعت اسلامی کے زیر قیادت 11 سیاسی جماعتوں پر مشتمل انتخابی اتحاد کو 43.9 فیصد ووٹ مل سکتے ہیں۔یہ سروے ملک بھر کے 63 ہزار 115 ووٹرز میں کیا گیا جن میں 36 ہزار 634 مرد جبکہ 26 ہزار 981 خواتین شامل تھیں۔ سروے کے مطابق 92 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ وہ اپنا ووٹ ڈالنے کا ارادہ رکھتے ہیں جبکہ 4.4 فیصد نے کہا کہ وہ ووٹ نہیں دیں گے اور 2.5 فیصد نے بتایا کہ وہ ابھی تک فیصلہ نہیں کر سکے۔اگرچہ مجموعی ووٹوں کے تناسب میں بی این پی اتحاد کو معمولی برتری حاصل ہے تاہم سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جن حلقوں میں نتیجہ تقریباً یقینی سمجھا جا رہا ہے وہاں بنگلادیش جماعت اسلامی کی قیادت میں قائم اتحاد آگے ہے۔سروے کے مطابق بنگلادیش جماعت اسلامی کے زیر قیادت اتحاد کو 105 حلقوں میں واضح کامیابی مل سکتی ہے جبکہ بی این پی اتحاد کو 101 نشستوں پر یقینی برتری حاصل ہو سکتی ہے۔اس کے علاوہ 75 حلقوں میں دونوں بڑے اتحادوں کے امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے جبکہ 19 حلقوں میں دیگر سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کی کامیابی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔بنگلا دیش کی انتخابی اصلاحات کمیشن کے سابق رکن اورماہر انتخابات محمد عبدالعلیم نے توقع ظاہر کی ہے کہ انتخابات میں نوجوانوں کی شرکت بھاری رہے گی۔ یہ نوجوان ووٹر روزگار کے حصول میں درپیش احساسِ محرومی کے ساتھ پولنگ اسٹیشنوں تک جائیں گے اور ووٹ ڈالیں گے۔

سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کے کے درمیان بنگلا دیش بی این پی کے مطابق اتحاد کو

پڑھیں:

گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ

صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔

حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی