data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ڈھاکا (نمائندہ خصوصی) بنگلا دیش میں 13 ویں پارلیمانی انتخابات اور آئینی ترامیم کے لیے قومی ریفرنڈم آج منعقد ہو رہے ہیں۔شیخ حسینہ کی سول آمریت کے خاتمے کے بعد یہ بنگلا دیش کے تاریخی عام انتخابات ہوں گے جس میں جماعت اسلامی اور بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔انتخابات میں 2000 امیدوار 350 نشستوں کے لیے مقابلہ کر رہے ہیں۔ ان میں سے تقریباً 1400 پہلی بار انتخابات لڑ رہے ہیں۔ انتخابی کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق 600 سے زاید امیدوار 44 سال یا اس سے کم عمر کے ہیں۔سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں ، 9 لاکھ سیکورٹی اہلکار الیکشن ڈیوٹی دیں گے۔بنگلا دیش کی آبادی 17 کروڑ 30 لاکھ سے زاید ہے، تقریباً 12 کروڑ 70 لاکھ شہری ووٹ کے لیے رجسٹرڈ ہیں، جن میں تقریباً 50 لاکھ پہلی بار ووٹ دینے والے شامل ہیں، تقریباً 44 فیصد ووٹرز کی عمر 18 سے 37 سال کے درمیان ہے، جو ملک میں نوجوان آبادی کے بڑے تناسب کو ظاہر کرتی ہے۔برسوں کی پابندی کا سامنا کرنے والی جماعت اسلامی بی این پی کو سخت مقابلہ دے رہی ہے۔ جماعت اسلامی کی قیادت میں 11 جماعتوں کا اتحاد میدان میں ہے اور بعض تجزیوں کے مطابق بی این پی اور جماعت اسلامی کے درمیان ووٹوں کا فرق بہت کم (تقریباً 2 فیصد) رہ سکتا ہے۔2024 کی طلبہ تحریک کے رہنماؤں کی جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی بھی جماعت اسلامی کے اتحاد کا حصہ ہے اور نوجوان ووٹرز میں مقبول ہے۔شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ رجسٹریشن معطل ہونے کی وجہ سے انتخابات سے باہر ہے۔ تاہم، جائزوں کے مطابق ان کے سابق ووٹرز کی ایک بڑی تعداد اب بی این پی کو ووٹ دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی قیادت میں قائم اتحاد کو 44.

1 فیصد ووٹ ملنے کا امکان ہے جبکہ بنگلادیش جماعت اسلامی کے زیر قیادت 11 سیاسی جماعتوں پر مشتمل انتخابی اتحاد کو 43.9 فیصد ووٹ مل سکتے ہیں۔یہ سروے ملک بھر کے 63 ہزار 115 ووٹرز میں کیا گیا جن میں 36 ہزار 634 مرد جبکہ 26 ہزار 981 خواتین شامل تھیں۔ سروے کے مطابق 92 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ وہ اپنا ووٹ ڈالنے کا ارادہ رکھتے ہیں جبکہ 4.4 فیصد نے کہا کہ وہ ووٹ نہیں دیں گے اور 2.5 فیصد نے بتایا کہ وہ ابھی تک فیصلہ نہیں کر سکے۔اگرچہ مجموعی ووٹوں کے تناسب میں بی این پی اتحاد کو معمولی برتری حاصل ہے تاہم سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جن حلقوں میں نتیجہ تقریباً یقینی سمجھا جا رہا ہے وہاں بنگلادیش جماعت اسلامی کی قیادت میں قائم اتحاد آگے ہے۔سروے کے مطابق بنگلادیش جماعت اسلامی کے زیر قیادت اتحاد کو 105 حلقوں میں واضح کامیابی مل سکتی ہے جبکہ بی این پی اتحاد کو 101 نشستوں پر یقینی برتری حاصل ہو سکتی ہے۔اس کے علاوہ 75 حلقوں میں دونوں بڑے اتحادوں کے امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے جبکہ 19 حلقوں میں دیگر سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کی کامیابی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔بنگلا دیش کی انتخابی اصلاحات کمیشن کے سابق رکن اورماہر انتخابات محمد عبدالعلیم نے توقع ظاہر کی ہے کہ انتخابات میں نوجوانوں کی شرکت بھاری رہے گی۔ یہ نوجوان ووٹر روزگار کے حصول میں درپیش احساسِ محرومی کے ساتھ پولنگ اسٹیشنوں تک جائیں گے اور ووٹ ڈالیں گے۔

نمائندہ خصوصی سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کے کے درمیان بنگلا دیش بی این پی کے مطابق اتحاد کو

پڑھیں:

ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ

قومی اقتصادی سروے 26-2025 میں رپورٹ کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں سمیت دیگر جانوروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور  مالی سال 26-2025 میں لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔

قومی اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں گدھوں کی تعداد 61 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی جو سالانہ 1.9 فیصد اضافہ ہوا اور خچروں کی تعداد 1.8 فیصد اضافے کے بعد دو لاکھ 21 ہزار ہوگئی ہے۔

سروے میں بتایا گیا کہ گھوڑوں کی تعداد میں 0.8 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 3 لاکھ 86 ہزار تک پہنچ گئی ہے، ملک میں رواں مالی سال کے دوران بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ 91 لاکھ سے تجاوز کرگئی اور سالانہ 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اسی طرح گائے کی تعداد 6 کروڑ 19 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی ہے جو 3.8 فیصد اضافہ ہے، بکریوں کی تعداد 9 کروڑ 18 لاکھ سے بڑھ گئی اور سالانہ 2.7 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

قومی اقتصادی سروے میں مزید بتایا گیا کہ ملک میں بھیڑوں کی تعداد 1.2 فیصد بڑھ کر 3 کروڑ 35 لاکھ سے زائد ہوگئی ہے، اونٹوں کی تعداد میں 1.4 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 11 لاکھ 93 ہزار ہوگئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال ماہی گیری کے شعبے میں 1.7 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی