سانحہ ترلائی‘ ملی یکجہتی کونسل کا کل ملک گیر احتجاج کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260212-08-9
اسلام آباد (نمائندہ جسارت)ملی یکجہتی کونسل نے سانحہ ترلائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے سانحہ ترلائی کے خلاف کل بروز جمعہ ملک بھر میں یوم احتجاج منانے کا اعلان کیا ہے۔ملی یکجہتی کونسل کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ سانحہ ترلائی کے معاملے پر حکومت نے منفی کردار ادا کیا اس سانحے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔سانحہ ترلائی کے شہدا کے یتیم بچوں کی کفالت کے لیے الخدمت فاؤنڈیشن تعاون کرے گی۔ان خیالات کا اظہار نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان و سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے ملی یکجہتی کونسل کے عہدیداران کے ہمراہ جماعت اسلامی اسلام آباد کے دفتر میلوڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ پریس کانفرنس میں ملی یکجہتی کونسل کے رہنماؤں امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا، مجلس وحدت المسلمین کے سید ناصر شیرازی، جماعت اہل حرم کے مفتی گلزار نعیمی، مرکزی سیکرٹری جنرل جمعیت علما پاکستان پیر صفدر شاہ گیلانی،مرکزی چیف آرگنائزرجمعیت علما پاکستان پیر سعید احمد نقشبندی، علامہ قاری ابرار حسین قادری مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری جمعیت علما پاکستان ودیگر نے شرکت کی۔لیاقت بلوچ نے کہاکہ ملی یکجہتی کونسل تمام مکاتب فکر کا نمائندہ پلیٹ فارم ہے یہ اتحاد امت کے لیے اپنا فرض ادا کررہاہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر نوعیت کی دہشت گردی قابل مذمت اورنا قابل قبول ہے۔ ایک ًمخصوص طبقہ دہشت گردی کے واقعے کو مذہب سے جوڑتا ہے ،دہشت گردی کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں دہشت گردوں کا مقصد بدامنی پیدا کرنا ہے۔ترلائی سانحہ کے بعد یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی کہ یہ کوئی فرقہ واریت کا معاملہ ہے۔ عوامی سطح پر سب اس کے خلاف کھڑے ہوگئے، جنازوں میں بڑی تعداد میں تمام مکاتب فکر کے لوگوں نے شرکت کی۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ عوام پوچھ رہے ہیں کہ وہ کیوں غیر محفوظ ہیں دہشت گردکیسے ریڈ زون میں داخل ہوجاتے ہیں۔سانحہ ترلائی کے بعد خبروں کو کیوں روکا گیا شہدا کی تعداد کیوں چھپائی گئی زخمیوں کو ریسکیو کرنے میں کیوں تاخیر کی گئی؟ ۔ انہوں نے کہاکہ ملی یکجہتی کونسل نے کل بروز جمعہ ملک بھر میں احتجاج کا فیصلہ کیا ہے ۔ملی یکجہتی کونسل کا وفد حکومت سے بھی ملے گا۔ امن کو یقینی بنانے کے لیے صوبائی سطح پر کانفرنسز کا انعقاد کیا جائے گا۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ سانحہ ترلائی کے شہدا اور زخمیوں کے لیے مالی پیکج کا اعلان کیا جائے اور اس کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنایا جائے۔ سانحہ ترلائی کے شہدا کے یتیم بچوں کی کفالت کے لیے الخدمت فاؤنڈیشن تعاون کرے گی۔ سوالات کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سیاست میں بازاری باتیں کی جارہی ہیں اخلاق سے گرے ہوئے الفاظ استعمال کررہے ہیں۔ سانحہ ترلائی کے بعد وزرا کی طرف سے سیاسی بیان بازی افسوس ناک ہے۔
اسلام آباد: نائب امیر جماعت اسلامی وسیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ کابینہ کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں
نمائندہ جسارت
سیف اللہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: لیاقت بلوچ نے کہا ملی یکجہتی کونسل سانحہ ترلائی کے سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی اسلام ا باد
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔