لاپتا افراد کی بازیابی حکومت کی ذمے داری ہے ‘اسداللہ بھٹو
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
شہدادپور(جسارت نیوز) جماعت اسلامی کے سینئر رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی مولانا اسداللہ بھٹو نے کہا ہے کہ سیاسی کارکنوں کی گرفتاریاں اور ان پر تشدد جمہوریت کی نفی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ سندھ سمیت ملک بھر میں 10 ہزار سے زاید لاپتا افراد کی بازیابی حکومت کی ذمے داری ہے کیونکہ ریاست ماں کی مانند ہوتی ہے۔ پہلے سیاست کا مقصد ملک اور عوام کی خدمت تھا، مگر اب کرسی اور مفادات کا حصول مقصد بن چکا ہے، جس کے لیے ایمان اور ضمیر کا سودا کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔انہوں نے کہا کہ سندھ کی زمینوں پر غیر قانونی طور پر قبضہ، کارونجھر پہاڑ کی کٹائی، گوداموں میں گندم چوری اور سندھ اسمبلی میں شراب پر پابندی کی قرارداد کی مخالفت اس کی واضح مثالیں ہیں۔ گزشتہ 18 برس سے سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، لیکن بدقسمتی سے جدید دور میں بھی سندھ کے عوام صاف پانی، صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ 80 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ تعلیمی ادارے دیوار، واش روم بجلی پنکھوں تک سے محروم ہیں جو کہ سندھ حکومت کی ناکامی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا ملک کا چوتھا اور اہم ستون ہے جو ایوانوں کو بھی ہلا سکتا ہے۔ سندھ کی بہتری، مظلوم عوام کے حقوق اور حق کی آواز بلند کرنے کے لیے صحافی برادری کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ جماعت اسلامی ‘‘بدل دو نظام کو، سنوار دو سندھ کو ’’ مہم چلا رہی ہے، اور حقیقت بھی یہ ہے کہ نظام اور قیادت کی تبدیلی سے ہی ملک کے مسائل حل ہو سکتے ہیں اور عوام کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے شہدادپور پریس کلب میں نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد دینے کے بعد ‘‘میٹ دی پریس’’ کے دوران کیا۔ اس موقع پر انہوں نے صدر ارشاد ظفر بخاری، جنرل اور دیگر عہدیداران کو اجرک، پھولوں کے ہار اور دینی کتابیں تحفے میں پیش کیں۔ سیکرٹری اطلاعات سندھ مجاہد چنا، مقامی امیر شوکت کمبوہ، امان اللہ ٹالپر، شفیق الرحمن شیخ، ایاز عمرانی سمیت دیگر مقامی رہنما بھی موجود تھے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی الگ صوبے کے قیام اور کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی مخالف ہے بااختیا و با وسائل بلدیاتی نظام ہی مسائل کا حل ہے۔ انہوں نے اسلام آباد میں بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے اسے حکومتی ناکامی قرار دیا۔ بعد ازاں اسداللہ بھٹو خاصخیلی گاؤں پہنچے اور ضلعی جنرل سیکرٹری ارشد خاصخیلی سے ان کی چچا زاد بہن کے انتقال پر تعزیت کی۔
شہدادپور:جماعت اسلامی کے سینئر رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی مولانا اسداللہ بھٹو شہدادپورپریس کلب کے نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد پیش کرنے کے بعد گفتگو کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی اسداللہ بھٹو انہوں نے
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔