امت مسلمہ کو ایک دوسرے کی حمایت کرنی چاہیے‘گورنر سندھ
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی میں ایرانی قونصلیٹ میں انقلاب اسلامی ایران کی 47ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ عالمی چیلنجز اور خطے میں موجود مشکلات کے باوجود جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مذاکرات، افہام و تفہیم اور سفارتی راستے ہی مسائل کا حل فراہم کرتے ہیں۔کامران ٹیسوری نے ایران اور پاکستان کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، بینکاری چینلز کو فعال کرنے اور اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی انقلاب کے بعد ایران نے جو استقامت اور ترقی کی راہیں اختیار کیں وہ دیگر ممالک کے لیے مثال ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر قومیں متحد ہو جائیں تو بڑی طاقتوں کے سامنے بھی ڈٹ سکتی ہیں۔ انہوں نے پاکستانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے بعد از انقلاب سفر سے یہ سبق حاصل کیا جا سکتا ہے کہ کس طرح خودداری اور اتحاد کے ساتھ ترقی کی جاتی ہے اور بیرونی دباؤ کے آگے نہیں جھکنا پڑتا۔گورنر سندھ نے اسلامی ممالک کے اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امت مسلمہ کو باہمی اختلافات کے بجائے ایک دوسرے کی حمایت کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وسائل اور دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے بغیر نہ تو معاشی میدان میں کامیابی ممکن ہے اور نہ ہی سفارتی سطح پر اثر و رسوخ قائم رہ سکتا ہے۔ فلسطین کی موجودہ صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کامران ٹیسوری نے کہا کہ معصوم بچوں اور شہریوں پر مظالم پوری انسانیت کے لیے باعث تشویش ہیں اور اگر اسلامی ممالک متحد نہ ہوئے تو تجارتی اور سفارتی محاذ پر بھی نقصان اٹھانا پڑے گا۔تقریب کے دوران ایران کی ترقی سے متعلق دکھائی گئی ڈاکومنٹری کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے دعا کی کہ یہ ترقی تمام اسلامی ممالک میں جاری رہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خود 2 مرتبہ ایران جا چکے ہیں اور ایران کے صدر کے پاکستان آنے پر انہیں اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی دی گئی تھی۔ایران جانے والے پاکستانی طلبہ اور زائرین کے حوالے سے گورنر سندھ نے ایرانی حکومت کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی ان کے لیے سہولیات میں اضافہ کیا جائے گا۔ انہوں نے تاجر برادری اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز کے نمائندوں سے اپیل کی کہ ایران اور پاکستان کے درمیان تجارتی روابط کو مزید فروغ دیا جائے، ایک دوسرے کے ملک میں مشترکہ نمائشوں کا انعقاد کیا جائے اور ہمسایہ تعلقات کو مضبوط بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ماضی میں بھی اتحاد اور شہادت کے جذبے کے ذریعے بڑے چیلنجز کا مقابلہ کیا اور یہ ثابت کیا کہ قومی یکجہتی ہی اصل طاقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر تمام اسلامی ممالک اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں تو دنیا میں ان کی حیثیت مزید مضبوط ہوگی۔قبل ازیں اسلامی جمہوریہ ایران کے قونصل جنرل H.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک پاکستان کے گورنر سندھ دیتے ہوئے ایک دوسرے کہ ایران ایران کی ایران نے نے ایران کے ساتھ
پڑھیں:
خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
اسحاق ڈار---فائل فوٹونائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔