اقتدار مستقل نہیں ہوتا‘ آج تمہاری کل ہماری باری ہوگی ‘ہر ظلم کا حساب لیں گے‘ وزیراعلیٰ پختونخوا
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اقتدار مستقل نہیں ہوتا، آج تمہاری کل ہماری باری ہوگی ہر ظلم کا حساب لیں گے۔ گورنمنٹ کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی جمرود کی اپلائیڈ سائنسز کی جانب سے اپ گریڈیشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں سہیل آفریدی نے کہا کہ جمرود کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ترقی میں پیچھے رکھا گیا، خیبر جمرود کو تعلیم کے میدان میں آئندہ ترقی یافتہ قوموں کی طرح ترقی ملے گی، عمران خان کے وژن کے مطابق انسانوں پر انویسٹمنٹ کی جائے گی، گزشتہ 78 سال میں ہمیں ب سے بندوق پڑھایا گیا، اب ہم اپنے جوانوں کو ق سے قلم سکھائیں گے، ہم غیرت مند بھی ہیں اور بہادر بھی لیکن بے وقوف نہیں ہیں، خیبر پختونخوا کے عوام ہر اس پالیسی سے بغاوت کریں گے جس میں ہمارا نقصان ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ نیشنل میڈیا ہے یا ن لیگ کا میڈیا ہے، نیشنل میڈیا پختونخوا کے عوام کو اپنا نہیں سمجھتا، 5 ہزار ارب روپے ہڑپ کرنے والوں کا میڈیا ٹرائل نہیں ہوتا، میں نے وادی تیراہ متاثرین کے لیے 4 ارب روپے ریلیز کیے تو 4 دن تک میرے خلاف میڈیا پر مسلسل پروگرام کیے گئے، خیبر پختونخوا کے عوام کے مظالم میڈیا نہیں دکھاتا، نیشنل میڈیا سچ نہیں دکھا سکتے تو کم از کم جھوٹ بھی نہ دکھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے تمام آئینی اقدامات اٹھائے لیکن ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی، اگر آئینی اور قانونی تقاضے پورا کرنے کے باوجود ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی تو احتجاج ہوگا، فیصلے اسلام آباد یا پنڈی سے نہیں بلکہ خیبر پختونخوا کے عوام کے مفاد میں ہوں گے، صوبائی حکومت عمران خان کے وژن اور پی ٹی آئی کے منشور کے مطابق فیصلے کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو ناحق قید کیا گیا، بنیادی حقوق پامال ہو رہے ہیں، عمران خان کی صحت کے باوجود ذاتی ڈاکٹروں کو رسائی نہیں دی گئی، ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ کو 12 سے زاید بار اڈیالہ جیل جاتے ہوئے روکا گیا، میرے پاسپورٹ کو اسٹاپ لسٹ میں ڈالا گیا، آئینی عہدے کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا۔ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعلیٰ کے ساتھ یہ ہو رہا ہے تو عوام کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا، اسلام آباد ہائی کورٹ اور عدالت سے رجوع کیا مگر شنوائی نہیں ہوئی تمام آئینی، قانونی اور جمہوری راستے آزما چکا ہوں، جب تمام راستے بند ہوں تو پرامن احتجاج ہی واحد آپشن رہ جاتا ہے مگر احتجاج آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کو اپنے حقوق کے لیے کھڑا ہونا ہوگا، خیبر پختونخوا کے مفاد کے خلاف ہر پالیسی کی مخالفت کریں گے، اپنے عوام کے حقوق کے لیے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹوں گا، وکیل علی زمان پر تشدد کی شدید مذمت کرتے ہیں، سادہ کپڑوں میں اغوا اور تشدد دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے، اقتدار مستقل نہیں ہوتا، آج تمہاری باری ہے کل ہماری ہوگی، ہر ظلم کا حساب لیں گے۔
مانیٹرنگ ڈیسک
سیف اللہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا کے پختونخوا کے عوام کا کہنا تھا کہ نہیں ہوتا عوام کے کے لیے
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔