Jasarat News:
2026-07-24@01:21:46 GMT

جماعت اسلامی کا سندھ اسمبلی پر دھرنا

اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260212-03-4
شاہراہ فیصل پر جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے ’’جینے دو کراچی مارچ‘‘ میں 14 فروری کو سندھ اسمبلی پر احتجاجی دھرنے کا اعلان کر کے پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کو اپنے مدمقابل لاکھڑا کیا ہے۔ سندھ حکومت نے سب سے پہلے شاہراہ فیصل پر ہونے والے احتجاجی دھرنے پر جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر خان اور ان کے ساتھیوں پر مقدمات قائم کیے گئے۔ 8 فروری کو الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر پرامن پریس کانفرنس کے دوران قائم مقام امیر جماعت اسلامی کراچی مسلم پرویز، رکن سندھ اسمبلی فرحان سمیت 19 افراد گرفتار کر لیے گئے۔ جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے سیاسی ٹمپریچر میں شدت بڑھتی جا رہی ہے۔ جماعت اسلامی کراچی نے اس سے قبل بھی سندھ اسمبلی پر 29 دنوں کا دھرنا دیا تھا اور وزیراعلیٰ سندھ اور سندھ حکومت کے وزراء کی یقین دہانیوں پر یہ دھرنا ختم ہوا تھا۔ اب جب کہ ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں بدترین آگ لگی اور اس آگ میں 70 سے زائد اموات اور تاجروں کا اربوں کھربوں روپے کا مال جل کر خاکستر ہوگیا تھا۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی اور میئر کراچی کی کارکردگی پر پورا ملک چیخ اٹھا اور وزیر اعلیٰ سندھ، میئر کراچی سے استعفے کا مطالبہ کیا گیا۔ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت اپنے دفاع میں ناکام رہی اور اسے چاروں طرف سے شدید تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

جماعت اسلامی جس نے بلدیاتی انتخابات میں کراچی میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے۔ تحریک انصاف کی حمایت کے بعد کراچی میں جماعت اسلامی کی میئر شپ پکی تھی لیکن پھر جمہوریت کی چمپئن پیپلز پارٹی نے جو گل کہلائے اور جماعت اسلامی کی میئر شپ پر جو شب خوں مارا اس نے پیپلز پارٹی کا چہرہ ساری دنیا کے سامنے بے نقاب کردیا۔ اب جب کے شہرکے حالات روز بروز ابتر ہوتے جارہے ہیں اور ایسے حالات میں جماعت اسلامی کے ارکین کی جانب سے میئر کراچی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جارہی ہے۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ایوان میں قائد حزب اختلاف سیف الدین ایڈووکیٹ سے مسلم لیگ ن کے چیئرمینوں کے گروپ نے ملاقات کی اور میئر کراچی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔ جس کی وجہ سے پیپلز پارٹی کی دوڑیں لگ گئی ہیں۔ مسلم لیگ ن اگر واقعی میئر کو ہٹانے میں سنجیدہ ہے تو پھرکوئی تبدیلی یقینی ہوسکتی ہے لیکن اس تمام صورتحال پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن سندھ میں اپنا گورنر لانا چاہتی ہے اور وہ اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پیپلز پارٹی کو ٹف ٹائم دے رہی ہے۔ مسلم لیگ ن کو امید ہے کہ پیلز پارٹی اپنی میئر شپ بچانے کے لیے ن لیگ کے گورنر کی حمایت پر مجبور ہوجائے گی۔

سندھ میں شطرنج کی بساط بچھائی جا چکی ہے اور مہرے اپنا اپنا کھیل کھیل رہے ہیں۔ سندھ حکومت اپنی نااہلی کی وجہ سے عوام کی نظروں سے گرتی جا رہی ہے۔ کچے اور پکے کے ڈاکوئوں نے عوام کا جینا حرام کیا ہوا ہے۔ کراچی جو کہ پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اس شہر کے باسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ نہ انہیں پینے کا صاف پانی مل رہا ہے نہ ہی بہتر ٹرانسپورٹ، نہ سیوریج کا کوئی سسٹم، یہاں کی سڑکیں موہن جو دوڑو کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ یہاں کا تعلیم یافتہ اعلیٰ ڈگری کا حامل نوجوان مایوسی کا شکار ہے اس پر مکمل طور پر روزگار کے دروازے بند ہوچکے ہیں۔ جس پر وہ اپنے بہتر مستقبل کے لیے بیرون ملک جانے پر مجبور ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں روزانہ کی بنیاد پر نوجوان بیرون ملک روزگار کے حصول کے لیے جارہے ہیں۔ ایسے حالات میں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے اہل کراچی کو 14 فروری کو سندھ اسمبلی پر دھرنے کی کال دی ہے۔ سندھ حکومت کو چاہیے کہ وہ جمہوری اطوار اختیار کرے اور جماعت اسلامی کو احتجاج کا اپنا جمہوری حق استعمال کرنے دے ورنہ طاقت کے بے جا استعمال سے حالات کے خراب ہونے کا اندیشہ پیدا ہوسکتا ہے۔ جماعت اسلامی نے اس سے قبل بھی 29 روز کا سندھ اسمبلی پر دھرنا دیا تھا اور نہ ایک پتھر مارا گیا اور نہ ہی کوئی شیشہ ٹوٹا۔ لہٰذا حالات کا تقاضا ہے کے ٹھنڈے دل کے ساتھ کراچی کے شہریوں کی آوازکو سنا جائے اور کراچی کے بنیادی مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں ورنہ کراچی کے مظلوم شہریوں کے صبر کا پیمانہ اگر لبریز ہوگیا تو پھر ان کو سنبھالنا انتہائی مشکل ہوجائے گا۔

قاسم جمال سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سندھ اسمبلی پر جماعت اسلامی پیپلز پارٹی میئر کراچی سندھ حکومت مسلم لیگ ن کراچی کے رہی ہے

پڑھیں:

پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ تحریک انصاف کے بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے۔

جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں بات کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے فارم 47 والے بیانیے کو مانا ہے اس کے بعد پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ وہ تمام عہدوں سے استعفے دے اور ہمارے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھے۔

پروگرام میں شریک پیپلز پارٹی کے رہنما سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہم مسلم لیگ ن کے ساتھ پاکستان کی خاطر حکومت میں بیٹھے ہیں۔

 ن لیگ کے بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ پیپلز پارٹی ان کے ساتھ ہی رہے گی اور اسی تنخواہ پر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ چلتے رہيں گے۔

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن