لانڈھی میں شوہر کے ہاتھوں بیوی قتل ، دیگر واقعات میں 8افراد جان کی بازی ہار گئے
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی( اسٹاف رپورٹر ) شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات وپرتشدد واقعات میں خواتین سمیت 9 افراد جاںبحق ہوگئے دیگر واقعات میں 4 افراد زخمی ہوئے ۔ تفصیلات کے مطابق لانڈھی چاول گودام موڑ کے قریب گھریلو جھگڑے کے دوران چھری کے وار سے ایک خاتون جاں بحق ہوگئیں۔ مقتولہ خاتون کی شناخت 45 سالہ پروین زوجہ خان محمد کے نام سے ہوئی ، پولیس کا کہنا ہے کہ مقتولہ اپنے شوہر کے ساتھ گھریلو تنازعے میں الجھ گئیں۔ جھگڑے کے دوران شوہر نے چھری سے پروین پر حملہ آور ہوا جس سے وہ شدید زخمی ہوگئیں اور موقع پر ہی دم توڑ گئیں۔پولیس نے ملزم شوہر کو گرفتار کر لیا ہے اور تفتیش کا عمل جاری ہے۔ اتحاد ٹاون تھانے کی حدود بلدیہ اتحاد ٹاؤن آفریدی چوک کے قریب سمندر خان کباڑی کے گھر سے خاتون24سالہ آمنہ بی بی زوجہ اسامہ کی لاش ملی ، مقتولہ کی لاش کو قانونی کاروائی کے لیے سول اسپتال ٹراما سینٹر منتقل کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ۔گلستانِ جوہر کے علاقے بھٹائی آباد گولڈ مارکیٹ کے قریب زہریلی چیز کھانے سے نوجوان جاںبحق ہوگیا ۔ تاحال نوجوان کی شناخت نہ ہوسکی ۔اس حوالے سے گلستانِ جوہر پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر لیا ہے تاکہ واقعے کی اصل وجہ اور اس میں ملوث افراد کا پتا چلایا جا سکے۔ سچل کے علاقے سعدی ٹاؤن اسکیم 33 چیک پوسٹ نمبر 05 کے قریب ٹریفک حادثے میں 19سالہ عبداللہ ولد زاہد چشتی جاں بحق ہوگیا ۔متوفی کی لاش کو عباسی شہید اسپتال منتقل کر دیا گیا ۔ گلستان جوہر پرفیوم چوک کے قریب ٹریفک حادثے میں 68سالہ معمر شخص محمود الحسن شاہ ولد فرزان حسین شاہ جاں بحق ہوگیا ۔جاں بحق ہونے والے شخص کوجناح ہسپتال منتقل کر دیا گیا ۔ لیاری پان منڈی میمن کمپاؤنڈ کے قریب عمارت کی چھت سے گرنے سے ایک شخص جان کی بازی ہار گیا ،متوفی کی لاش کو سول اسپتال ٹراماسینٹر سے ضابطہ کی کاروائی کے بعد ورثا ء کے سپر د کر دیا گیا ۔ ابراہیم حیدری کورنگی ریڑھی گوٹھ سمندر میں ڈوبنے والے 20 سالہ نوجوان رحمان کی لاش نکال لی گئی ،متوفی کی لاش کوقانونی کاروائی کے بعد کورنگی 05 نمبر ایدھی سردخانے منتقل کر دیا گیا ۔ دوسری جانب سرجانی ٹاون تھانے کی حدود گلشن شیراز سرجانی ٹاون سیکٹر 6کے قریب تیز رفتار گاڑی کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 45سالہ ذیشان ، 40سالہ صادق عزیز اور 50سالہ عدیل نامی افراد زخمی ہوگئے ۔ جبکہ ایوب گوٹھ کی بیک سائیڈ ندی والی گلی کے قریب واقع ایک گھر میں دوستوں کے درمیان تلخ کلامی کے باعث تیز دھار آلے سے حملہ کیا گیا، جس میں ایک لڑکا زخمی ہوگیا۔ جس کی حالت تشویشناک ہے۔ جیکسن تھانے کی حدود شیری جناح کالونی سکندر آباد آمنہ مسجد کے قریب جھگڑے کے دوران فائرنگ سے 2 افراد جاںبحق ہوگئے ،مقتولین کی لاشوں کو قانونی کاروائی کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی شناخت20سالہ کامران ولد ممتاز اور 24 سالہ سرتاج ولدممتاز خان کے ناموں سے ہوئی ، پولیس کا کہنا ہے کہ واقع ذاتی دشمنی کا شاخسانہ ہے 2 ملزمان کو گرفتار حرست میں لے کر فائرنگ میں استعمال ہونے والا اسلحہ اور گولیوں کے خالی خول برآمد کر لیے گئے ۔ مزید تفتیش جاری ہے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کاروائی کے کر دیا گیا کی لاش کو کے قریب
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔