کراچی، بلوچ کالونی پل کے قریب رہائشی عمارت میں آتشزدگی، 100 افراد بحفاظت نکال لیے گئے
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
کراچی:
شہر قائد کے علاقے بلوچ کالونی پل کے قریب واقع ایک رہائشی عمارت میں اچانک بھڑکنے والی آگ نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق آگ عمارت کے بیسمنٹ میں لگی جہاں گاڑیوں کی پارکنگ اور جنریٹر نصب تھا، اور دیکھتے ہی دیکھتے شعلے تیزی سے پھیل گئے۔
ابتدائی طور پر عمارت کو پانچ منزلہ سمجھا جا رہا تھا تاہم ریسکیو ذرائع نے تصدیق کی کہ عمارت آٹھ منزلوں پر مشتمل ہے اور ہر فلور پر چار فلیٹس موجود ہیں، جس کے باعث خطرے کی شدت بڑھ گئی۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ آگ پر قابو پانے کے لیے دو اسنارکل اور پانچ فائر ٹینڈرز استعمال کیے جا رہے ہیں جبکہ امدادی کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں۔ اب تک 100 سے زائد افراد کو عمارت سے بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔
واقعے کے بعد آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے پولیس حکام کو فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچنے اور متاثرہ عمارت، رہائشیوں اور اطراف کے علاقوں کو محفوظ بنانے کی ہدایت جاری کی ہے۔
ساتھ ہی فائر بریگیڈ، ایمبولینس اور ریسکیو عملے کی بروقت رسائی یقینی بنانے کے لیے راستے کلیئر رکھنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔