میاں بیوی میں موبائل چارج کرنے پر جھگڑا، اہلیہ کے ہاتھوں شوہر قتل
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
قاہرہ: مصر میں موبائل فون چارج کرنے کے معاملے پر میاں بیوی کے درمیان ہونے والی تکرار جان لیوا ثابت ہوئی۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق پولیس کو اپارٹمنٹ میں جھگڑے کی اطلاع ملی تو اہلکار موقع پر پہنچے جہاں ایک کمرے سے 40 سالہ شخص کی لاش برآمد ہوئی۔
تحقیقات کے ابتدائی مرحلے میں معلوم ہوا کہ دونوں کے موبائل فونز کی بیٹری ختم ہونے کے قریب تھی اور اسی بات پر بحث شروع ہوئی کہ پہلے کون فون چارج کرے گا۔
معمولی نوعیت کی یہ بحث دیکھتے ہی دیکھتے شدت اختیار کرگئی اور نوبت ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔ عینی شاہدین اور ملزمہ کے بیان کے مطابق شوہر نے زبردستی اپنا موبائل چارجر میں لگایا جس پر خاتون شدید غصے میں آگئیں۔
پولیس کے مطابق خاتون باورچی خانے میں گئیں اور چاقو اٹھا کر شوہر پر وار کردیا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ مقتول کے جسم پر گہرا زخم پایا گیا جبکہ آلہ قتل کو تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ لاش کو قانونی کارروائی کے لیے مردہ خانے منتقل کردیا گیا۔
حکام نے خاتون کو حراست میں لے کر مقدمہ درج کرلیا ہے اور کیس پراسیکیوشن کے سپرد کردیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔