ڈی آئی خان: دہشتگردانہ حملے میں شہید پولیس اہلکاروں کی نمازِ نماز جنازہ ادا
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
ڈی آئی خان (نیوز ڈیسک) دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہونے والے 5 پولیس اہلکاروں کی سرکاری اعزاز کے ساتھ نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔
شہدا کی نمازِ جنازہ اعجاز شہید پولیس لائن میں ادا کی گئی، شہدا کے جسد خاکی کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، نماز جنازہ میں عسکری، پولیس افسران، سول سوسائٹی، سیاسی و سماجی شخصیات سمیت رشتے داروں نے شرکت کی، نمازِ جنازہ کے بعد شہدا کے جسد خاکی آبائی علاقوں کو روانہ کر دیے گئے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز خیبر پختونخوا کے ضلع ڈی آئی خان میں دہشت گردوں سے مقابلے میں ایس ایچ او سمیت 5 اہلکار شہید ہو گئے تھے، تھانہ پنیالہ کی حدود وانڈہ بڈھ میں دہشت گردوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا۔
پولیس اہلکار معمول کے گشت پر تھے کہ دہشتگردوں نے اچانک حملہ کر دیا، فائرنگ کے تبادلے میں ڈی ایس پی پہاڑ پور سرکل عدنان بھی شدید زخمی ہوئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔