این سی سی آئی اےکے 77 کنٹریکٹ افسران نوکریوں سے فارغ
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
اسلام آباد (شکیل قرار)نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے 77 کنٹریکٹ افسران کو نوکریوں سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) کی جانب سے دی گئی تین ماہ کی آخری توسیع بھی ختم ہو چکی ہے، جبکہ ادارہ تاحال کنٹریکٹ افسران کی ریگولرائزیشن کے لیے قواعد و ضوابط تشکیل نہیں دے سکا۔
نوکری سے فارغ ہونے والوں میں ٹیکنیکل، فرانزک اور انویسٹیگیشن ونگ کے گریڈ 16 سے 18 کے افسران شامل ہیں۔ ان افسران کی برطرفی سے زیرِ تفتیش مقدمات اور عدالتوں میں زیرِ سماعت کیسز متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دستاویزات کے مطابق ڈی جی این سی سی آئی اے نے 258 نئی بھرتیوں کے لیے پی سی ون بھجوا دیا ہے، جس میں سفارش کی گئی ہے کہ نئی بھرتیوں سے سائبر کرائم تحقیقات اور پراسیکیوشن کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔ تاہم، پرانے کنٹریکٹ افسران کی برطرفی سے ادارے کے اندر تجربہ کار افرادی قوت کے خاتمے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نوکری سے فارغ ہونے والوں میں چار ڈپٹی ڈائریکٹرز، 47 اسسٹنٹ ڈائریکٹرز، ایک آفس سپرنٹنڈنٹ، سات ٹیکنیکل افسران اور 18 انسپکٹرز شامل ہیں۔ برطرف ہونے والے افسران متعدد بار اپنی نوکریوں کو مستقل کرانے کے لیے کوششیں کر چکے تھے مگر تاحال کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔
اسسٹنٹ ڈائریکٹر انویسٹیگیشن اسد فخرالدین کے خلاف انکوائری مکمل ہونے تک ان کے کنٹریکٹ میں توسیع کر دی گئی ہے۔
روزنامہ “ممتاز” کے پاس موجود دستاویزات کے مطابق این سی سی آئی اے کے کنٹریکٹ افسران جنہیں نوکری سے فارغ کیا گیا، ان میں ڈپٹی ڈائریکٹر انویسٹیگیشن نرگس رضا، محمد اقبال، سلیمان اعوان اور محمد علی خان شامل ہیں۔
اسسٹنٹ ڈائریکٹر انویسٹیگیشن کے عہدے سے فارغ ہونے والوں میں محمد علی، محمد شعیب ریاض، طاہرہ حرا، ایم ذیشان حبیب، نوریہ خان، کیلاش بابو، فہد درانی، عمر کلیم، عمران خان، علی رضا جمالدینی، امان اللہ، زاہد بشیر، سید علی رضا گردیزی، محمد آصف نذیر، عاصمہ مجید، ذیشان حمید، علی یزدان بن الیاس، محمد سبطین احمد خان، محمد عمران افضل درانی، نعمان علی، محمد عامر زیب، مزمل حسین، فقیر حسن جمیل، حیدر علی، نویدہ بتول ملک، سعدیہ، رخسانہ بی بی، عمر شہزاد، سلمان ریاض، مظہر حیدر، اسامہ جاوید، حسین علی مغل، عامر علی، عماد گرچ، فصیح رحمان حارث، احسن احمد، نعمان احمد خان، ارشد اقبال، مشیر، سکندر زمان، ایڈوائزر عامر سہیل انجم، ذینہ ظہیر، شیراز خان راجپر، ارباب ارشد سعید، شہاب حسین، سید علی رضوی، زکریا خان، عثمان طاہر، محمد احسن شامل ہیں۔
اسی طرح آفس سپرنٹنڈنٹ محمد عمران، سائبر کرائم تجزیہ کار نجیب الحسن، محمد اعجاز ریاض، ذہیب ظہیر، عروبہ کنول، محسن علی اور طارق خان کو بھی نوکری سے فارغ کر دیا گیا ہے۔
انسپکٹرز کے عہدے سے برطرف ہونے والوں میں انسپکٹر قدسیہ مہتا، نجف خان، وقاص رضوان، حافظ عمار مظہر، بدر شہزاد خان، اقراء مقدس، محمد توصیف، محمد اویس، اویس احمد، طیبہ فاروق، مسعود احمد، لطف علی، ممتاز حسین، ارفع سعید، دانیال، الیاس خان اور نعمان علی شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق افسران کی برطرفی سے این سی سی آئی اے میں جاری تفتیشی عمل، سائبر فرانزک رپورٹس اور پراسیکیوشن کے معاملات متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ نئی بھرتیوں کے عمل میں وقت لگنے کی صورت میں ادارہ شدید افرادی قلت کا شکار ہو سکتا ہے۔
10.
NCCIA-Phase-III Letter 28-11-2025
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سی سی آئی اے کنٹریکٹ افسران ہونے والوں میں نوکری سے فارغ افسران کی شامل ہیں
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔