پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں پی آئی اے کی نجکاری کے جشن پر گونگ بیل تقریب منعقد
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں پی آئی اے کی نجکاری کے جشن پر گونگ بیل تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں وزیرِ اعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکس چینج کے چیف ایگزیکٹو فرخ سبزواری نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری بلاشبہ شفافیت کے ساتھ ہوئی۔ پی آئی اے کی نجکاری ہو رہی تھی اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج ٹی پلس ون میں مشغول تھی۔
انہوں نے کہا کہ جے پی مورگن کے سرمایہ کاروں نے گزشتہ روز بڑی سرمایہ کاری ٹرانزیکٹ کرنے کا سوال پوچھا تو ہمارا جواب ٹی پلس ون تھا۔ پاکستان ٹی پلس ون پر منتقل ہونے والا ساتواں ملک بن چکا ہے۔ مقامی میوچل فنڈز کی خریداری کی وجہ سے پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں تیزی ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایچ بی ایل کی ایک ارب ڈالر کی ٹرانزیکشن ہوئی، کچھ عرصہ قبل یو بی ایل کی 40کروڑ ڈالر ٹرانزیکشن ہوئی تھی۔ مارکیٹ کیپٹلائزیشن 2017 میں 100ارب ڈالر ہو گئی تھی۔ فی الوقت ڈالر کی صورت میں مارکیٹ کیپیٹلائزیشن 74ارب ڈالر ہے۔ روپے کی صورت میں پاکستان اسٹاک ایکس چینج کی مارکیٹ کیپیٹلائزیشن 21 ہزار ارب کی تاریخی بلند ترین سطح پر ہے۔
چیئرمین اے کے ڈی گروپ عقیل کریم ڈھیڈی کا خطاب میں کہنا تھا کہ پی آئی اے کی نجکاری سے زیادہ بہتر نجکاری پہلے کسی ریاستی ادارے کی نہیں ہوئی۔ ڈاکٹر شمشاد اختر کو کریڈٹ جاتا ہے جنہوں نے بطور نگراں وزیرِ خزانہ پی آئی اے کی ضمانتوں کو ایڈجسٹ کیا۔
انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کو سالانہ 1800ارب روپے کپیسٹی چارجز ادا کیے جاتے ہیں۔ گیس کی ڈیمانڈ نہ ہونے کے باوجود گیس امپورٹ کر کے کاروباری لاگت بڑھائی گئی۔ حکومت کو فیصلہ سازی کیلئے کیپیٹل مارکیٹس کے نمائندگان سے مشاورت کرنی چاہیئے۔
چیئرمین عارف حبیب گروپ، عارف حبیب کا خطاب میں کہنا تھا کہ پی آئی اے کی ٹرانزیکشن 180 ارب روپے تاریخ کی سب سے بڑی ٹرانزیکشن ہے۔ پی آئی اے کی نجکاری کا جشن پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں ہی منانا ضروری تھا۔
انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے اسٹرکچر سے متعلق کافی سوالات اٹھے کہ محض 10ارب روپے ادا کیے گئے۔ ہم نے 55ارب روپے ادا کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ 45کروڑ ڈالر پی آئی اے کی ترقی پر خرچ کیے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں پی آئی اے کی نجکاری کہ پی آئی اے کی انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔