احمد شہزاد پی ایس ایل میں سلیکٹ نہ ہونے پر لائیو شو میں آبدیدہ ہوگئے
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستانی کرکٹ کے معروف اوپننگ بلے باز احمد شہزاد نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے گیارہویں سیزن میں شامل نہ کیے جانے پر لائیو ٹی وی پروگرام کے دوران اپنے جذبات قابو میں رکھنے میں ناکام ہو گئے اور ناظرین کے سامنے آبدیدہ ہو گئے۔
نجی ٹی وی کے خصوصی شو میں پاکستانی کرکٹر احمد شہزاد کو بطور مہمان مدعو کیا گیا تھا، جہاں ان کے ہمراہ قومی ٹیم کے سابق فاسٹ بولر محمد عامر بھی موجود تھے، میزبان نے احمد شہزاد سے سوال کیا کہ گزشتہ دو ایڈیشنز کے ساتھ ساتھ اس بار پی ایس ایل میں حصہ نہ بننے پر کیسا محسوس ہو رہا ہے۔
اس سوال کے جواب میں احمد شہزاد نے اپنے جذبات کھل کر بیان کیے اور کہا کہ بالکل، یہ سب دیکھ کر جذباتی ہوجاتا ہوں، دل بہت افسردہ ہو جاتا ہے، میں کرکٹ کھیلنا چاہتا ہوں، ساتھی کھلاڑیوں کو میدان میں دیکھ کر خوشی ہوتی ہے، لیکن اپنے لیے دل شکستہ ہو جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں نے پاکستان کرکٹ کو اٹھارہ سال خدمت دی ہے اور اچانک سب کچھ ختم ہونا ان کے لیے انتہائی کٹھن لمحہ ہے۔
احمد شہزاد نے خصوصی طور پر اپنے بیٹے کی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ سب سے زیادہ دکھ اس بات کا ہے کہ میرا بیٹا مجھے کھیلتے دیکھنا چاہتا ہے، وہ اب نو سال کا ہوگیا ہے، رات کو وہ میرے ساتھ سوتا ہے اور کہتا ہے ’بابا مجھے یاد ہے آپ کھیلتے تھے، لیکن اب میں آپ کو اچھے طریقے سے یاد رکھ پاؤں گا۔ یہ بات میرے دل کو بہت لگتی ہے اور شدید دکھ دیتی ہے۔
قومی کرکٹر نے یہ بھی کہا کہ میں اپنی زندگی اور کیریئر پر مطمئن ہوں، لیکن یہ چھوٹے چھوٹے لمحے اور یادیں میرے جذبات پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔
واضح رہے کہ احمد شہزاد نے سال 2023 میں پاکستان سپر لیگ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا، جس کے باعث ان کا نام نئے سیزن کے ڈرافٹ میں شامل نہیں کیا گیا۔ ان کے جذباتی اظہار نے کرکٹ کے شائقین کے دلوں میں بھی ہمدردی پیدا کر دی ہے اور سابق بلے باز کی کھیل کے لیے محبت اور عزم کو اجاگر کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔