بنگلادیش انتخابات: بی این پی رہنما پولنگ سٹیشن کے باہر جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
ویب ڈیسک: بنگلہ دیش میں ہونے والے انتخابات کے دوران شہر خولنا میں پولنگ سینٹر کے باہر بی این پی (بنگلہ دیش نیشنل پارٹی) کے رہنما محیب الزمان کوچی جاں بحق ہو گئے ہیں۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق واقعہ جمعرات کی صبح آٹھ بج کر دس منٹ پر پولنگ کے دوران پیش آیا، جس میں 55 سالہ بی این پی کے رہنما محیب الزمان کوچی جو سابق آفس سیکرٹری خولنا سٹی یونٹ بھی رہ چکے ہیں، جاں بحق ہوگئے۔
بابری مسجد پر یوگی آدتیہ ناتھ کا بڑا بیان، سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا
بی این پی کے مطابق محیب الزمان کوچی کی ہلاکت اس وقت ہوئی جب جماعت اسلامی کے ایک رہنما نے انہیں دھکیل دیا اور وہ درخت سے ٹکرا گئے، جس سے ان کے سر پر شدید چوٹ آئی۔
سابق تنظیمی سیکرٹری خولنا سدرانہ بی این پی یوسف ہارون مجنو نے بتایا کہ پولنگ اسٹیشن پر صبح سے کشیدہ صورتحال تھی، علیا مدرسہ کے پرنسپل وہاں جماعت اسلامی کے لیے مہم چلا رہے تھے، جب انہیں روکا گیا تو انہوں نے محیب الزمان کوچی کو دھکیل دیا، وہ درخت سے ٹکرا گئے اور سر پر گہری چوٹ لگنے کے باعث چل بسے۔
سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سی ایم ایچ میں زیر علاج
دوسری جانب جماعت اسلامی کے سینٹر ڈائریکٹر محبوب الرحمان نے بتایا کہ کہ بی این پی کے لوگ ہماری خواتین کارکنان کو باہر نکال رہے تھے جس پر میں نے انہیں روکا تاہم بعد میں مجھے اطلاع ملیکہ ایک شخص اچانک بیمار ہو کر فوت ہو گیا۔
خولنا علیا مدرسہ کے پرنسپل عبدالرحیم میا نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ میں پولنگ سینٹر میں ووٹ دینے کے بعد اپنے گھر جا رہا تھا۔ تب میں نے کچھ خواتین کو باہر نکالا اور ان سے صرف اتنا کہا تھا کہ باہر جائیں۔ میں نے کسی کو دھکا نہیں دیا۔
بنگلہ دیش انتخابات، پولنگ اسٹیشن کے قریب دھماکا
پولیس کے مطابق صبح کے وقت بی این پی اور جماعتِ اسلامی کے حامیوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔ ہم موقع پر پہنچے اور دونوں فریقوں کو الگ کیا۔ پھر ایک شخص کو آٹو رکشے میں لے جاتے ہوئے دیکھا گیا۔ یہاں کسی دھکے یا لڑائی کا واقعہ پیش نہیں آیا۔
دوسری جانب انتخابات کے دوران بی این پی کے رہنما طارق الرحمان کے حریف اور جماعت اسلامی کے امیدوار خالد الزمان نے ووٹنگ کے عمل میں بے ضابطگیوں کا الزام سامنے آیا ہے۔
پہلا سرکاری آٹزم سکول قائم، خصوصی بچوں کیلئے عالمی معیار کی سہولتیں میسر ہوں گی: مریم نواز
بھارتی نیوز ایجنسی اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے خالد الزمان نے کہا کہ صورتحال اچھی نہیں ہے کیونکہ بغیر پولنگ ایجنٹ کے، الگ کمرے میں کسی نے ووٹ کے کاغذات سیل کر دیے ہیں، یہ بالکل مایوس کن ہے، ہم امید کر رہے تھے کہ جماعت اسلامی انتخابات جیتے گی، لیکن اگر ایسا ہوتا ہے تو امیدیں کیسے رکھیں؟
بی این پی کے طلبہ ونگ (بنگلہ دیش جتیو تابی چیٹرہ ڈل) کے رکن زبیر نے اس الزام کے جواب میں کہا کہ صورتحال دو طرفہ ہے اور وہ اسے کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی اسے خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہے، ہمارے پاس ثبوت ہیں کہ وہ ووٹ سینٹرز پر لوگوں کو دھوکہ دے رہے ہیں اور غیر قانونی ووٹ ڈال رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کے بی این پی کے بنگلہ دیش
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔