ایران کیخلاف محدود جارحیت بھی جنگ کے آغاز کے مترادف ہوگی، علی شمخانی
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
تہران میں اسلامی انقلاب کی 47 ویں سالگرہ کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علی شمخانی نے دشمن کو واضح پیغام دیا کہ امریکہ کیجانب کسی بھی قسم کی محدود جارحیت کو بھی جنگ کا آغاز سمجھا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کیلئے مشورہ ہے کہ دھمکیوں کے بجائے مذاکرات کے راستے پر سنجیدگی سے عمل کرے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی نے ایران کی میزائل صلاحیت کو ریڈ لائن قرار دیدیا۔ تہران میں اسلامی انقلاب کی 47 ویں سالگرہ کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علی شمخانی نے دوٹوک الفاظ میں واضح کر دیا کہ ایران کی میزائل صلاحیت کو کسی مذاکرات کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔ علی شمخانی نے دشمن کو واضح پیغام دیا کہ امریکہ کی جانب کسی بھی قسم کی محدود جارحیت کو بھی جنگ کا آغاز سمجھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کے لیے مشورہ ہے کہ دھمکیوں کے بجائے مذاکرات کے راستے پر سنجیدگی سے عمل کرے۔ یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ روز مذاکرات ناکامی کی صورت میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کیلئے خطے میں ایک اور بحری بیڑہ تعینات کرنے سے خبردار کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علی شمخانی نے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :