WE News:
2026-07-24@01:35:59 GMT

اسرائیل خطے میں نئی جنگ بھڑکانا چاہتا ہے، علی لاریجانی

اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT

اسرائیل خطے میں نئی جنگ بھڑکانا چاہتا ہے، علی لاریجانی

ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ تہران کے جوہری پروگرام سے متعلق امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرتے ہوئے نئی جنگ بھڑکائی جا سکے۔

قطر کے دارالحکومت دوحہ کے دورے کے دوران الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں لاریجانی نے کہا کہ اسرائیل مذاکرات کو پٹری سے اتارنے کے لیے مختلف بہانے تراش رہا ہے، جبکہ امریکا کے ساتھ بات چیت ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی، برطانیہ کا قطر میں ٹائفون جنگی طیارے تعینات کرنے کا فیصلہ

’ہمارے مذاکرات صرف امریکا کے ساتھ ہیں، اسرائیل کے ساتھ ہماری کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، تاہم اسرائیل نے خود کو اس عمل میں داخل کر لیا ہے اور اس کا مقصد ان مذاکرات کو کمزور اور ناکام بنانا ہے۔‘

لاریجانی کے مطابق اسرائیل کی حکمت عملی پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے اور اس کا ایجنڈا صرف ایران تک محدود نہیں۔

مزید پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی: پاکستان کا مکالمے اور سفارت کاری پر زور، وزیراعظم کا صدر مسعود پزشکیان سے رابطہ

انہوں نے ستمبر میں دوحہ میں حماس عہدیداروں کو نشانہ بنانے کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نہ صرف ایران بلکہ قطر، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ بھی ’جوا کھیل رہا ہے‘۔

انہوں نے علاقائی رہنماؤں کو اس حوالے سے خبردار رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ جون میں ایران پر اسرائیلی حملہ ایسے وقت ہوا جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان کئی دور کی بات چیت جاری تھی، جس سے مذاکرات عملاً سبوتاژ ہو گئے۔

ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ملاقات

دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان عمان کے دارالحکومت مسقط میں بالواسطہ مذاکرات کا ایک دور منعقد ہوا، جس کا مقصد جوہری تنازع کا حل تلاش کرنا تھا۔

یہ بات چیت ایسے وقت ہو رہی ہے جب امریکا نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو مطالبات تسلیم نہ کرنے کی صورت میں حملے کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی، برطانیہ کا قطر میں ٹائفون جنگی طیارے تعینات کرنے کا فیصلہ

مجوزہ دوسرے دور کے مذاکرات کے تناظر میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے واشنگٹن کا ہنگامی دورہ کیا اور ٹرمپ سے ملاقات کی، جہاں انہوں نے ایران سے مذاکرات کے لیے چند ’اصول‘ پیش کیے۔

ملاقات کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے حوالے سے ’کوئی حتمی فیصلہ‘ نہیں ہوا، البتہ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات جاری رہیں تاکہ ممکنہ معاہدے تک پہنچا جا سکے۔

مشترکہ نکات اور اختلافات

لاریجانی نے کہا کہ مسقط میں ہونے والی بات چیت دراصل پیغامات کے تبادلے تک محدود رہی اور ابھی تک امریکا کی جانب سے کوئی باقاعدہ تجویز موصول نہیں ہوئی۔

ان کے مطابق تہران مذاکرات کے حوالے سے مثبت رویہ اختیار کیے ہوئے ہے اور واشنگٹن بھی بظاہر بات چیت کو ترجیحی راستہ سمجھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان اس بات پر مشترکہ نقطہ نظر پایا جاتا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا، اور تہران کا مؤقف ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کا خواہاں نہیں۔

مزید پڑھیں: ایران امریکا سے جوہری مذاکرات کے لیے تیار، بڑی شرط رکھ دی

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات صرف ایران کے جوہری پروگرام تک محدود رہیں گے، ایران کا میزائل پروگرام یا دیگر دفاعی امور بات چیت کا حصہ نہیں ہوں گے۔

’ہمارا میزائل پروگرام جوہری پروگرام سے مکمل طور پر الگ ہے، یہ ہمارا داخلی اور قومی سلامتی سے متعلق معاملہ ہے، اس لیے اسے مذاکرات میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔‘

اسی طرح ایران کی یورینیم افزودگی کو صفر پر لانے کی تجویز کو بھی انہوں نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جس ملک نے یہ ٹیکنالوجی حاصل کر لی ہو، اس کے لیے اسے مکمل طور پر ترک کرنا عملی طور پر ممکن نہیں۔

مزید پڑھیں: ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوا تو امریکا کسی بھی آپشن سے گریز نہیں کرےگا، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی

انہوں نے کہا کہ افزودہ یورینیم کینسر کے علاج جیسے پرامن مقاصد کے لیے درکار ہوتا ہے، اور ایران اپنے جوہری مراکز کے معائنے کے لیے تصدیقی عمل پر آمادہ ہے۔

لاریجانی نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے جون کی طرح دوبارہ ایران پر حملہ کیا تو تہران خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔

دوحہ روانگی سے قبل علی لاریجانی نے حماس کی قیادت کونسل کے سربراہ محمد درویش اور دیگر رہنماؤں سے بھی ملاقات کی، جس میں خطے کی تازہ سیاسی صورتحال اور غزہ کی جنگ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

استحکام افزودگی الجزیرہ امریکا تہران جوہری پروگرام حماس دفاعی امور دوحہ ڈونلڈ ٹرمپ سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل علی لاریجانی غزہ قطر مذاکرات مسقط میزائل پروگرام واشنگٹن یورینیم.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: استحکام افزودگی الجزیرہ امریکا تہران جوہری پروگرام دفاعی امور ڈونلڈ ٹرمپ سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل علی لاریجانی مذاکرات میزائل پروگرام واشنگٹن یورینیم جوہری پروگرام ایران امریکا علی لاریجانی لاریجانی نے مزید پڑھیں مذاکرات کے امریکا کے نے کہا کہ انہوں نے نہیں ہو بات چیت کے ساتھ کے لیے ہے اور

پڑھیں:

امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی

امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لندن (آئی پی ایس )امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کے لیے برطانوی ائیربیس کے استعمال پر ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی دی ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق نئے وزیراعظم اینڈی برنہم کے عہدہ سنبھالنیکے بعد امریکی فوج نے گلوسیسٹرشائر میں واقع رائل ائیر فورس کے آر اے ایف فیئرفورڈ فضائی اڈے سے ایران کے خلاف B-1 اسٹریٹجک بمبار طیاروں سے بمباری کی۔

ایرانی میڈیا کے مطابق اس حملے میں امریکی طیاروں نے ایران عراق سرحدی علاقے شلمچہ بارڈرکراسنگ کو نشانہ بنایا جس میں 2 افراد شہید اور 11 زخمی ہوئے۔ ایران نے اس کے جواب میں آنکھ کے بدلے آنکھ کی بنیاد پر جوابی کارروائیوں کی دھمکی دی۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نیکہا کہ ہماری دفاعی پالیسی واضح ہے، آنکھ کے بدلے آنکھ۔ جو لوگ کسی بھی قسم کی مدد کے ذریعے ایران کیخلاف جارحیت میں شریک ہوں گے، انہیں بھی جائز ہدف سمجھا جائیگا۔اب ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی طیاروں کے برطانوی فضائی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو خبردار کیا ہے۔

پاسداران انقلاب کا کہنا ہیکہ حالیہ کارروائیوں میں امریکی افواج نے ابتدا میں بحر ہند میں موجود بحری جہازوں سے کروز میزائل داغے اور جب ان کے ذخائر کم ہوگئے تو برطانیہ کے آر اے ایف فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہیکہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز فوجی ہدف سمجھا جائے گا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرجدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا اگلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم