اسرائیل خطے میں نئی جنگ بھڑکانا چاہتا ہے، علی لاریجانی
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ تہران کے جوہری پروگرام سے متعلق امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرتے ہوئے نئی جنگ بھڑکائی جا سکے۔
قطر کے دارالحکومت دوحہ کے دورے کے دوران الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں لاریجانی نے کہا کہ اسرائیل مذاکرات کو پٹری سے اتارنے کے لیے مختلف بہانے تراش رہا ہے، جبکہ امریکا کے ساتھ بات چیت ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی، برطانیہ کا قطر میں ٹائفون جنگی طیارے تعینات کرنے کا فیصلہ
’ہمارے مذاکرات صرف امریکا کے ساتھ ہیں، اسرائیل کے ساتھ ہماری کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، تاہم اسرائیل نے خود کو اس عمل میں داخل کر لیا ہے اور اس کا مقصد ان مذاکرات کو کمزور اور ناکام بنانا ہے۔‘
لاریجانی کے مطابق اسرائیل کی حکمت عملی پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے اور اس کا ایجنڈا صرف ایران تک محدود نہیں۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی: پاکستان کا مکالمے اور سفارت کاری پر زور، وزیراعظم کا صدر مسعود پزشکیان سے رابطہ
انہوں نے ستمبر میں دوحہ میں حماس عہدیداروں کو نشانہ بنانے کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نہ صرف ایران بلکہ قطر، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ بھی ’جوا کھیل رہا ہے‘۔
انہوں نے علاقائی رہنماؤں کو اس حوالے سے خبردار رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ جون میں ایران پر اسرائیلی حملہ ایسے وقت ہوا جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان کئی دور کی بات چیت جاری تھی، جس سے مذاکرات عملاً سبوتاژ ہو گئے۔
ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ملاقاتدوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان عمان کے دارالحکومت مسقط میں بالواسطہ مذاکرات کا ایک دور منعقد ہوا، جس کا مقصد جوہری تنازع کا حل تلاش کرنا تھا۔
یہ بات چیت ایسے وقت ہو رہی ہے جب امریکا نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو مطالبات تسلیم نہ کرنے کی صورت میں حملے کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی، برطانیہ کا قطر میں ٹائفون جنگی طیارے تعینات کرنے کا فیصلہ
مجوزہ دوسرے دور کے مذاکرات کے تناظر میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے واشنگٹن کا ہنگامی دورہ کیا اور ٹرمپ سے ملاقات کی، جہاں انہوں نے ایران سے مذاکرات کے لیے چند ’اصول‘ پیش کیے۔
ملاقات کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے حوالے سے ’کوئی حتمی فیصلہ‘ نہیں ہوا، البتہ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات جاری رہیں تاکہ ممکنہ معاہدے تک پہنچا جا سکے۔
مشترکہ نکات اور اختلافاتلاریجانی نے کہا کہ مسقط میں ہونے والی بات چیت دراصل پیغامات کے تبادلے تک محدود رہی اور ابھی تک امریکا کی جانب سے کوئی باقاعدہ تجویز موصول نہیں ہوئی۔
ان کے مطابق تہران مذاکرات کے حوالے سے مثبت رویہ اختیار کیے ہوئے ہے اور واشنگٹن بھی بظاہر بات چیت کو ترجیحی راستہ سمجھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان اس بات پر مشترکہ نقطہ نظر پایا جاتا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا، اور تہران کا مؤقف ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کا خواہاں نہیں۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا سے جوہری مذاکرات کے لیے تیار، بڑی شرط رکھ دی
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات صرف ایران کے جوہری پروگرام تک محدود رہیں گے، ایران کا میزائل پروگرام یا دیگر دفاعی امور بات چیت کا حصہ نہیں ہوں گے۔
’ہمارا میزائل پروگرام جوہری پروگرام سے مکمل طور پر الگ ہے، یہ ہمارا داخلی اور قومی سلامتی سے متعلق معاملہ ہے، اس لیے اسے مذاکرات میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔‘
اسی طرح ایران کی یورینیم افزودگی کو صفر پر لانے کی تجویز کو بھی انہوں نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جس ملک نے یہ ٹیکنالوجی حاصل کر لی ہو، اس کے لیے اسے مکمل طور پر ترک کرنا عملی طور پر ممکن نہیں۔
مزید پڑھیں: ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوا تو امریکا کسی بھی آپشن سے گریز نہیں کرےگا، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
انہوں نے کہا کہ افزودہ یورینیم کینسر کے علاج جیسے پرامن مقاصد کے لیے درکار ہوتا ہے، اور ایران اپنے جوہری مراکز کے معائنے کے لیے تصدیقی عمل پر آمادہ ہے۔
لاریجانی نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے جون کی طرح دوبارہ ایران پر حملہ کیا تو تہران خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔
دوحہ روانگی سے قبل علی لاریجانی نے حماس کی قیادت کونسل کے سربراہ محمد درویش اور دیگر رہنماؤں سے بھی ملاقات کی، جس میں خطے کی تازہ سیاسی صورتحال اور غزہ کی جنگ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
استحکام افزودگی الجزیرہ امریکا تہران جوہری پروگرام حماس دفاعی امور دوحہ ڈونلڈ ٹرمپ سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل علی لاریجانی غزہ قطر مذاکرات مسقط میزائل پروگرام واشنگٹن یورینیم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: استحکام افزودگی الجزیرہ امریکا تہران جوہری پروگرام دفاعی امور ڈونلڈ ٹرمپ سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل علی لاریجانی مذاکرات میزائل پروگرام واشنگٹن یورینیم جوہری پروگرام ایران امریکا علی لاریجانی لاریجانی نے مزید پڑھیں مذاکرات کے امریکا کے نے کہا کہ انہوں نے نہیں ہو بات چیت کے ساتھ کے لیے ہے اور
پڑھیں:
واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
اسرائیل کی جانب سے لبنان پر خون ریز حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان واشنگٹن میں مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں شروع ہونے والے مذاکرات جنگ بندی مذاکرات کا تسلسل اور چوتھا دور ہے۔
لبنان کی سرکاری خبرایجنسی نے بتایا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ہیڈکوارٹرز میں شروع ہوگئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذاکرات کے لیے دونوں فریق کے نمائندے واشنگٹن پہنچے، جس کے بعد مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو لبنان پر حملوں کے حوالے سے ٹیلی فون پر سخت الفاظ کا استعمال کیا تھا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو پاگل قرار دیا اور کہا کہ ہر کوئی تم سے نفرت کرتا ہے، اسی وجہ سے لوگ اسرائیل سے بھی نفرت کرتے ہیں۔
دوسری جانب لبنان پر اسرائیل کے حملے جاری ہیں جہاں جنوبی لبنان کے بڑے شہروں میں سے ایک نباطیہ پر شدید بم باری کی گئی ہے۔