اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت سے ساولکوٹ ڈیم پر تفصیلات طلب کر لی ہیں، پانی کے حق پر سمجھوتہ نہیں کریں گے، مسائل پرامن طریقے سے حل کرنا چاہتے ہیں۔
وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ بھارت کے ساولکوٹ ڈیم کا معاملہ اٹھایا ہے، پاکستان کےانڈس واٹرکمشنرنےبھارتی واٹرکمشنر کو خط لکھا ہے، پاکستان نےنئےڈیم کی تمام تفصیلات طلب کی ہیں، سندھ طاس معاہدہ کےتحت پاکستان تمام تفصیلات لینےکاحق رکھتا ہے۔

رافیل کمپنی نے طیارے گرانے کی توثیق کی

ترجمان نے کہا ہے کہ بھارت پر زور دیتے ہیں کہ سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کرے، پاکستان پرامن طریقے سے تمام مسائل حل کرنا چاہتا ہے، پاکستان اپنےلوگوں کے پانی کےحقوق پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ رافیل کمپنی نے پاکستان کی جانب سے بھارتی رافیل طیارے گرائے جانے کی معلومات کی توثیق کی ہے، مستقبل میں بھی کسی بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستانی قانونی ٹیم نے عالمی ثالثی عدالت میں سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے سماعت میں حصہ لیا، جبکہ بھارت اس سماعت میں شریک نہیں ہوا، پاکستان نے دوبارہ اس بات کی تجدید کی کہ دونوں فریقین کے لیے سندھ طاس معاہدے کی مکمل پابندی لازمی ہے۔

بھارت کرکٹ کو بنگلہ دیش کےخلاف ہتھیار بنا رہا تھا

ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ کرکٹ میں سیاست کو ملوث کرنا یا اس کو ہتھیار بنانا افسوسناک ہے، بھارت کے خلاف نہ کھیلنے کا فیصلہ کھیل کو سیاسی ہتھیارنہ بننے کیلئے کیا تھا، بھارت کرکٹ کو بنگلہ دیش کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کر رہا تھا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اسلام آباد خودکش دھماکےمیں افغان سرزمین کے استعمال کے ثبوت عالمی سطح پرپیش کیے، داعش حملوں کا ماسٹرمائنڈ افغانستان میں موجود ہے، ہماراسفارتخانہ افغانستان میں موجود ہے، انہوں نے بھی تبادلہ کیا ہے۔

افغانستان میں داعش کی موجودگی کے ثبوت دنیا کو دیدیئے

طاہر حسین اندرابی نے واضح کیا کہ افغانستان میں داعش موجودگی کےثبوت عالمی شراکت داروں سے شیئر کیے، پاکستان اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ازبکستان کےصدر نے پاکستان کا دورہ کیا، ازبک صدر کو وزیراعظم نے دورے کی دعوت دی تھی، پاکستان اور ازبکستان میں تجارت 2ارب ڈالرتک لے جانے پر اتفاق ہوا، پاک ازبک ترجیحی تجارتی معاہدے کو مزید وسیع کیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ قازقستان کے صدر نے بھی پاکستان کا دورہ کیا، قازقستان صدر نے وزیراعظم اور صدرمملکت سے ملاقاتیں کیں، ملاقاتوں میں سکیورٹی اورڈیفنس کےمعاملات پر گفتگو ہوئی، ملاقاتوں میں مشترکہ فوجی مشقوں پر بھی اتفاق ہوا۔

غزہ بورڈ میں اچھی امید سے شمولیت کی

انہوں نے بتایا کہ اسحاق ڈار نےآذربائیجان کے وزیرخزانہ سے رابطہ کیا، اسحاق ڈار کی ایران کے وزیرخارجہ سے 2 بار گفتگو ہوئی، اسحاق ڈار اور ترکیے کے وزیرخارجہ کا 2 بار رابطہ ہوا، رواں ہفتے پاکستان نے ایکسپورٹ کنٹرول فہرستوں کی تجدید کی، رواں ہفتےپاکستان سمیت 8مسلم ممالک نے 2مشترکہ بیان جاری کیے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعظم بورڈ آف پیس اجلاس میں شریک ہوں گے، وزیرخارجہ اسحاق ڈاربھی وزیراعظم کےہمراہ ہوں گے، وزیراعظم کے ہمراہ پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد بھی ہوگا، پاکستان نےبورڈ میں اچھی امید کےساتھ شمولیت اختیارکی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: افغانستان میں پاکستان نے نے کہا کہ کہ بھارت انہوں نے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم