بنگلہ دیش میں پرامن انتخابات اور ریفرنڈم کا انعقاد، چیف ایڈوائزر محمد یونس کا قوم سے اظہارِ تشکر
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات اور جولائی نیشنل چارٹر کے نفاذ سے متعلق ریفرنڈم کے پُرامن اور منظم انعقاد پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے عوام، اداروں اور متعلقہ حکام کا شکریہ ادا کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مسلح افواج دیانتدار رہیں تو ملک کو اچھا الیکشن ملے گا، امیرِ جماعت اسلامی
ووٹنگ کے اختتام کے بعد اپنے بیان میں پروفیسر محمد یونس نے عوام کی پُرجوش شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ شہریوں نے اپنے آئینی حق کا استعمال کرتے ہوئے ملک کے مستقبل کی تشکیل میں فعال کردار ادا کیا۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں، امیدواروں اور انتخابی عمل سے وابستہ اداروں کے ذمہ دارانہ طرزِ عمل اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بھی تعریف کی۔
https://x.
چیف ایڈوائزر نے الیکشن کمیشن، قانون نافذ کرنے والے اداروں، مسلح افواج، سول انتظامیہ، مبصر مشنز، میڈیا نمائندگان اور انتخابی عملے کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی محنت اور لگن نے اس بڑے جمہوری عمل کو کامیاب بنایا۔
انہوں نے سیاسی جماعتوں اور امیدواروں پر زور دیا کہ حتمی نتائج کے اعلان کے بعد بھی جمہوری روایات، برداشت اور باہمی احترام کو برقرار رکھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اختلافِ رائے فطری امر ہے، تاہم قومی مفاد میں اتحاد کو ترجیح دینا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:طارق رحمان کا انتخابی نتائج فوری جاری کرنے کا مطالبہ، دھاندلی کی صورت میں نتائج مسترد کرنے کا انتباہ
پروفیسر یونس نے کہا کہ بنگلہ دیش نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ اصل طاقت عوام کے پاس ہے۔ انہوں نے عہد کیا کہ حکومت ایک زیادہ جوابدہ، جامع اور منصفانہ ریاست کے قیام کے لیے کام جاری رکھے گی۔
انہوں نے اس انتخابی عمل کو قومی جشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کی تاریخ کے پُرامن اور پُروقار ترین انتخابات میں سے ایک تھا۔ ان کے مطابق اگر یہی مثبت رجحان برقرار رہا تو بنگلہ دیش کی جمہوریت نئی بلندیوں کو چھوئے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکشن بنگلہ دیش بنگلہ دیش پروفیسر یونس ڈاکٹر یونس
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الیکشن بنگلہ دیش بنگلہ دیش پروفیسر یونس ڈاکٹر یونس
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔