قدرت نے پاکستان کو زرعی شعبے میں بے شمار وسائل سے نوازا ہے: وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
سٹی 42 : وزیراعظم شہباز شریف سے ترکیہ کے زرعی ٹیکنالوجیز کلسٹر TUME کے بورڈ چیئرمین کی وفد کے ہمراہ اسلام آباد میں ملاقات ہوئی۔
وزیراعظم نے ترکیہ سمیت دیگر ممالک میں جدید ٹیکنالوجی اور زرعی ماہرین کی بدولت زرعی شعبے میں جدت سے مستفید ہونے کے لیے باہمی تعاون کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیراعظم نے زراعت کے شعبے میں پاکستان کے بے شمار وسائل اور صلاحیتوں کو بروۓ کار لانے کے لیے جامع حکمت عملی اور دوست ممالک کے درمیان باہمی تعاون کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا۔
ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ: بھارت میں بچی ہوئی کولڈ ڈرنک دوبارہ بوتلوں میں بھرکر بیچنے کی ویڈیو وائرل
ملاقات کے دوران TUME کے بورڈ چیئرمین عبدالقادر قاراگوز نے اپنے فرم میں پیداوار بڑھانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر بریفنگ دی۔ انہوں نے پاکستان اور ترکیہ کے مابین زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔
ملاقات میں پاکستان میں ترکیہ کے سفیر عرفان نزیراوولو، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیراعظم کے مشیران سید طارق فاطمی اور ہارون اختر اور متعلقہ اعلی سرکاری افسران نے شرکت کی۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی ایچیسن کالج لاہور کے اساتذہ وطلبہ کیساتھ خصوصی نشست
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :