بنگلادیش انتخابات: ڈھاکا میں پولنگ اسٹیشن پردستی بم دھماکا، 3 افراد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
بنگلہ دیش میں جاری انتخابات کے دوران ڈھاکہ کے ضلع گوپال گنج میں ایک پولنگ اسٹیشن پر دستی بم کے دھماکے سے ہلچل مچ گئی۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلادیش کے ضلع گوپال گنج میں پولنگ اسٹیشن کے اندر دستی بم کے دھماکے نے انتخابات کے دوران تشویش پیدا کر دی، دھماکے کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر کے طبی امداد فراہم کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق دھماکے سے پولنگ اسٹیشن کے مرکزی دروازے کو جزوی نقصان پہنچا، تاہم واقعے کی اطلاع ملتے ہی سکیورٹی فورسز اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور حالات کو کنٹرول کیا گیا۔
مقامی حکام نے کہا ہے کہ دھماکے کی نوعیت اور ذمہ دار عناصر کی فوری تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ آئندہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
اس واقعے نے بنگلادیش میں جاری قومی پارلیمانی انتخابات کے دوران حفاظتی اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کر دیا ہے، جہاں ملک بھر میں ووٹنگ کا عمل جاری ہے، ضلع گوپال گنج میں پولنگ اسٹیشنز کے اطراف اضافی سیکیورٹی تعینات کر دی گئی ہے تاکہ ووٹرز بلا خوف و خطر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر سکیں۔
واضح رہے کہ بنگلا دیش میں عام انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل جاری ہے، جس میں 50 سیاسی جماعتیں حصہ لے رہی ہیں، 12 کروڑ 70 لاکھ سے زائد ووٹرز اپنے حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں، جن میں تقریباً 44 فیصد نوجوان شامل ہیں، ملک بھر کے 299 حلقوں میں پولنگ کا آغاز مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے سات بجے ہوا تھا، جو شام ساڑھے چار بجے تک جاری رہے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔