Islam Times:
2026-06-02@22:07:10 GMT

کوئٹہ، انقلاب اسلامی کی 47ویں سالگرہ پر تقریب منعقد

اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT

کوئٹہ، انقلاب اسلامی کی 47ویں سالگرہ پر تقریب منعقد

تقریب میں بلوچستان کی سیاسی و مذہبی رہنماؤں، تاجروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔ اسلام ٹائمز۔ انقلاب اسلامی کی 47ویں سالگرہ کے موقع پر کوئٹہ میں ایرانی قونصل جنرل کی رہائش گاہ پر ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں ایرانی قونصل جنرل محمد کریمی تودشکی، سابق گورنر بلوچستان ملک عبدالولی کاکڑ، مجلس علماء مکتب اہلبیت کے امام جمعہ علامہ ہاشم موسوی، جامعہ امام صادقؑ کوئٹہ کے پرنسپل علامہ جمعہ اسدی، جمعیت نظریاتی کے مولانا قادر لونی، تحریک انصاف کے داؤد شاہ کاکڑ، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رحیم زیارتوال، جعمیت علماء اسلام کے ایم پی اے زابد ریکی، مجلس وحدت مسلمین کے علامہ ولایت حسین جعفری، شیعہ علماء کونسل کے مولانا اکبر زاہدی، جماعت اسلامی کے قاری عطاء الرحمان، کوئٹہ پریس کلب کے صدر عرفان سعید سمیت دیگر سیاسی و مذہبی رہنماؤں، تاجروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی قونصل جنرل محمد کریمی تودشکی نے کہا کہ ایرانی عوام نے متحد ہوکر اندرونی و بیرونی سازشوں کا مقابلہ کیا اور دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا۔

انہوں نے اسلام آباد اور بلوچستان میں پیش آنے والے دہشتگردی کے حالیہ واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی دونوں ممالک کا مشترکہ مسئلہ ہے اور ایران و پاکستان اس انسانیت سوز ناسور کا یکساں طور پر شکار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اصولی طور پر ہر قسم کی دہشتگردی کی مخالفت کرتا ہے اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لئے سنجیدہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران خود کو خطے اور عالمی برادری میں ایک ذمہ دار، آزاد اور مؤثر کردار ادا کرنے والا ملک سمجھتا ہے اور ہمیشہ امن، مکالمے، کثیرالجہتی تعاون اور مشترکہ کوششوں کی حمایت کرتا آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے آئین کے تحت ہر شہری کو پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے، تاہم بعض مواقع پر بیرونی مداخلت نے صورتحال کو خراب کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب حکومت مظاہرین سے مذاکرات میں مصروف تھی تو امریکہ کی مداخلت نے بدامنی کو ہوا دی۔ پاک ایران تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے ایرانی قونصل جنرل نے بتایا کہ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور گزشتہ مالی سال میں پہلی بار دوطرفہ تجارت کا حجم 3 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا ہے، جو دونوں ممالک کے اقتصادی تعاون میں مثبت پیش رفت کا مظہر ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایرانی قونصل جنرل انہوں نے کہا کہ ہے اور

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل