آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس حاصل کرنے کا سنہری موقع
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
سٹی 42 : سٹوڈنٹس، نوجوانوں اور خواتین کیلئے آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس حاصل کرنے کا سنہری موقع آگیا ۔
وزیراعظم کی پیو اسکیم کے تحت الیکٹرک بائیکس حاصل کرنے والے مستحقین کو سبسڈی کی رقم منتقل کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سےسی ای او انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ حماد علی منصور نے بتایا کہ اسکیم کے تحت مجموعی طور پر ایک لاکھ 16 ہزار الیکٹرک بائیکس تقسیم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں 41 ہزار الیکٹرک گاڑیاں حاصل کرنے والوں کو سبسڈی کی منتقلی جاری ہے۔
موبائل فون سروس کی بندش سے بچنا ہے تو سب سے پہلے یہ کام کریں!
حماد علی منصور نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں 40 ہزار الیکٹرک بائیکس جبکہ ایک ہزار الیکٹرک رکشے اور لوڈرز شامل ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دوسرے مرحلے میں 78 ہزار سے زائد الیکٹرک گاڑیوں پر سبسڈی دینے کا منصوبہ ہے۔
سی ای او انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ نے کہا کہ حکومت رواں سال پیو اسکیم کے تحت تقریباً 9 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کرے گی۔ اسکیم کے تحت طلبہ، نوجوانوں اور خواتین کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسکیم میں شامل ہونے کے لیے پیو پورٹل پر رجسٹریشن لازمی ہے، درخواست گزار کو پورٹل پر ضروری معلومات فراہم کرنا ہوں گی جس کے بعد رجسٹریشن کا عمل مکمل ہوگا۔
بانی پی ٹی آئی سے کسی پارٹی رہنما کو ملاقات کی اجازت نہ مل سکی
انہوں نے کہا مزید کہ رجسٹریشن اور درخواست گزار کے انتخاب کا طریقہ کار مکمل طور پر ڈیجیٹل اور شفاف بنایا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: الیکٹرک بائیکس ہزار الیکٹرک اسکیم کے تحت انہوں نے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔