پاک بھارت میچ، آئی سی سی نے کشیدگی ختم کرنے کیلیے 5 ممالک کے کرکٹ سربراہان کو مدعو کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل پاکستان، بھارت اور بنگلادیش کے بگڑتے تعلقات پر ایک ایم فیصلہ کیا ہے جس پر عملدرآمد پاک بھارت میچ سے قبل ہوگا۔
اس بات کی تصدیق بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام نے مقامی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں کی۔
انہوں نے بتایا کہ 15 فروری کو ٹی 20 ورلڈکپ میں پاک بھارت میچ سے قبل آئی سی سی نے ایشیائی ممالک کے کرکٹ بورڈ سربراہان کو مدعو کیا ہے۔ جبکہ یہ تمام سربراہان پویلین میں بھی ایک ساتھ نظر آئیں گے۔
اُن کے مطابق مدعو کرنے کا مقصد ان ممالک کے سربراہان کے درمیان مکالمہ کرنا ہے تاکہ مسائل کا حل نکالا جاسکے۔
مزید پڑھیںسری لنکن صدر کی وزیراعظم سے پاک بھارت میچ کھیلنے کی درخواست
بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے صدر کا کہنا تھا کہ آئی سی سی کی جانب سے یہ ملاقات کولمبو میں رکھی جائے گی جو اجلاس کی صورت میں ہوگا۔
امین الاسلام کے مطابق اس اجلاس کا مقصد بھارت، بنگلادیش اور پاکستان کے درمیان کشیدہ ہونے والے تعلقات کو بہتر بنانا ہے جو ورلڈکپ سے قبل کشیدہ ہوئے اور عالمی کرکٹ کا ماحول متاثر ہوا۔
اجلاس میں پاکستان، بھارت، بنگلادیش، سری لنکا اور افغانستان کے سربراہان شامل ہوں گے۔
امین الاسلام نے بتایا کہ آئی سی سی کی خواہش ہے کہ 15 فروری سے قبل یہ بیٹھک ہو اور بامعنی مذاکرات ہوں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاک بھارت میچ
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔