بھارت نے ہمیشہ مغربی ایشیا میں امن، استحکام اور مکالمے کی کوششوں کی حمایت کی ہے، رندھیر جیسوال
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
میڈیا بریفنگ میں وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بھارت کو امریکی حکومت کیجانب سے باضابطہ دعوت موصول ہوئی ہے اور اسکی تفصیلات اور ممکنہ عمل درآمد کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے وزارتِ خارجہ نے جمعرات کو تصدیق کی کہ امریکہ نے بھارت کو "بورڈ آف پیس" میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے، جس پر حکومت سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ بھارت کو امریکی حکومت کی جانب سے باضابطہ دعوت موصول ہوئی ہے اور اس کی تفصیلات اور ممکنہ عمل درآمد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ رندھیر جیسوال نے کہا کہ بھارت نے ہمیشہ مغربی ایشیا میں امن، استحکام اور مکالمے کی کوششوں کی حمایت کی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے بھی غزہ میں طویل مدتی اور پائیدار امن کی ہر اس کوشش کا خیرمقدم کیا ہے جو خطے میں استحکام لا سکے۔ 8 فروری کو ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ رواں ماہ واشنگٹن میں "بورڈ آف پیس" کا پہلا اجلاس بلانے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس کا مقصد غزہ کی تعمیرِ نو کے لئے فنڈز اکٹھا کرنا ہے۔
مجوزہ اجلاس 19 فروری کو متوقع ہے اور اس میں ان عالمی رہنماؤں کو مدعو کیا جائے گا جنہوں نے جنوری میں ٹرمپ کی دعوت قبول کی تھی۔ اس کے علاوہ ایک ایگزیکٹو کمیٹی بھی تشکیل دی جائے گی جو غزہ کی حکمرانی، سکیورٹی اور تعمیرِ نو کے معاملات کی نگرانی کرے گی۔ ابتدائی طور پر اس بورڈ کو اسرائیل۔حماس جنگ کے خاتمے کے تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، تاہم اب اطلاعات کے مطابق اس کا دائرہ کار وسیع کر کے عالمی بحرانوں کے حل تک پھیلانے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ اقدام اقوامِ متحدہ کے متوازی ایک نئے عالمی فریم ورک کی کوشش بھی سمجھا جا رہا ہے۔ بھارت کی ممکنہ شمولیت کو خطے میں اس کے سفارتی کردار اور مغربی ایشیا کے ساتھ اس کے متوازن تعلقات کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔