متحدہ عرب امارات میں جعلی نوکری کے اشتہارات دینے والے 230 سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
متحدہ عرب امارات کی حکومت نے شہریوں اور غیر ملکیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر چلنے والے جعلی نوکری کے اشتہارات سے محتاط رہیں۔ حکام کے مطابق ایسے اشتہارات لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے بنائے جاتے ہیں اور غیر قانونی سرگرمی کے زمرے میں آتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یو اے ای ویزے پر پابندی، قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانیز نے اہم ہدایات جاری کردیں
میڈیا رپورٹس کے مطابق اب تک 230 ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کیے جاچکے ہیں جو جعلی نوکری کی پیشکش کر رہے تھے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ حکومت سے لائسنس کے بغیر ملازمین کی بھرتی کی تشہیر مکمل طور پر غیر قانونی ہے اور اس پر قانونی کارروائی ہوسکتی ہے۔
حکام نے مزید کہا ہے کہ قانون کے تحت، جعلی نوکری کے اشتہار چلانے والے افراد کو 20 ہزار سے ایک لاکھ درہم تک جرمانہ اور چھ ماہ قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یو اے ای میں نوکریوں کے نئے مواقع، اہم شعبوں کے لیے نئی ویزا پالیسی کا اعلان
حکام نے شہریوں اور ملازمین سے اپیل کی ہے کہ وہ نوکری کی کسی بھی آفر کو حاصل کرنے سے پہلے مستند ذرائع اور سرکاری ویب سائٹس سے تصدیق ضرور کریں تاکہ کسی فراڈ یا دھوکہ دہی کا شکار نہ ہوں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news جعلی اشتہار متحدہ عرب امارات نوکریاں وارننگ ویزے.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جعلی اشتہار متحدہ عرب امارات نوکریاں وارننگ ویزے جعلی نوکری
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔