ہم اپنی قومی خودمختاری کے دفاع کو مدِنظر رکھتے ہوئے سفارتکاری کیلئے پُرعزم ہیں، جنیوا میں ایرانی مندوب کا بیان
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
اپنی ایک تقریر میں علی بحرینی کا کہنا تھا کہ 1979ء میں آنے والا اسلامی انقلاب ایک ایسی قوم کے عزم و ارادے کا عکاس تھا جو عزت، خودمختاری اور حق خودارادیت چاہتی تھی۔ اسلام ٹائمز۔ جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر میں ایران کے مستقل مندوب اور سفیر "علی بحرینی" نے کہا کہ تہران اپنی خود مختاری، سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کا بہترین ذریعہ سفارت کاری کو سمجھتا ہے۔ علی بحرینی نے ان خیالات کا اظہار انقلاب اسلامی کی 47ویں سالگرہ کی مناسبت سے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ 1979ء میں آنے والا اسلامی انقلاب ایک ایسی قوم کے عزم و ارادے کا عکاس تھا جو عزت، خودمختاری اور حق خودارادیت چاہتی تھی۔ انہوں نے مزید كہا كہ یہ انقلاب صرف ایک سیاسی نظام کی تبدیلی نہ تھی بلکہ ایران کی تقدیر میں قومی ملکیت کی بحالی تھی۔ اسلامی جمہوریہ ایران اس وقت سے آج تک بیرونی دباؤ اور چیلنجز کے باوجود، آزادی، سماجی انصاف، عوامی شرکت اور استبداد کے خلاف مزاحمت کو ہدف بنائے آگے بڑھ رہا ہے۔ ایرانی سفیر نے واضح کیا کہ تہران جہاں اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کا پوری طرح دفاع کرتا ہے، وہیں قومی مفادات کے تحفظ اور امن میں معاونت کے لئے سفارت کاری کو بنیادی ذریعہ سمجھتا ہے۔ انہوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ حقیقی مکالمہ تبھی کامیاب ہو سکتا ہے جب وہ احترام، مساوات اور جائز مفادات کو قبول کرنے پر استوار ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔