data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی:امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ کراچی کے حقوق، شہری مسائل کے حل اور بااختیار بلدیاتی نظام کے مطالبے پر 14 فروری کو سندھ اسمبلی کے سامنے بھرپور دھرنا دیا جائے گا، جبکہ قابض میئر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک بھی لائی جائے گی، ظلم اور قبضے کے نظام کو مزید نہیں چلنے دیا جائے گا اور کراچی کے عوام کو جینے کا حق دلایا جائے گا۔

ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ تمام صوبائی حکومتیں آئین کے مطابق بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنائیں کیونکہ جماعت اسلامی پرامن، جمہوری اور عوامی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کی بجلی اور سولر پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیٹ میٹرنگ ختم کرنا عوام کے ساتھ دھوکہ ہے جبکہ آئی پی پیز کو سالانہ تقریباً دو ہزار ارب روپے کی ادائیگی اور صارفین پر فکس چارجز کا نفاذ غریبوں پر ظلم ہے، اگر یہ فیصلے واپس نہ لیے گئے تو رمضان المبارک کے بعد ملک گیر تحریک چلائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو جوڑنے والی جماعت ہے اور وہ تمام قومیتوں کو ساتھ لے کر پاکستان کو مضبوط بنانا چاہتی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کرتے ہوئے، وہ قوم سے خطاب کر کے غزہ سے متعلق پالیسی اور فوج بھیجنے کے معاملے پر واضح مؤقف دیں، خیبر پختونخوا خصوصاً وادی تیراہ میں شدید سردی اور نقل مکانی کے باعث عوام مشکلات میں ہیں، حکومت متاثرین کو فوری گھروں میں واپس بسائے اور معاوضہ فراہم کرے۔

حافظ نعیم الرحمن نے الزام لگایا کہ پیپلز پارٹی کی 17 سالہ حکمرانی نے کراچی کو نظرانداز کیا، شہر کے وسائل پر قبضہ رکھا اور عوام کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا، کراچی ملک کا معاشی مرکز ہونے کے باوجود تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے، شہر کی آبادی ساڑھے تین کروڑ ہے مگر مردم شماری میں دو کروڑ ظاہر کی گئی، گزشتہ پانچ برس میں ایک لاکھ عمارتیں تعمیر ہوئیں جن میں سے 85 ہزار غیر قانونی ہیں جو کسی بھی وقت بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہیں۔

انہوں نے گل پلازہ سانحے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے نے صوبائی حکومت اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں، عالمی معیار کے مطابق ہر ایک لاکھ افراد پر ایک فائر اسٹیشن ہونا چاہیے مگر کراچی میں صرف 28 فائر اسٹیشن ہیں جن میں سے محض 21 جزوی طور پر فعال ہیں۔

بین الاقوامی امور پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بعض عالمی اقدامات اور فورمز میں پاکستان کی شرکت قومی پالیسی اور عوامی جذبات کے خلاف ہو سکتی ہے، اس لیے حکومت کو اس حوالے سے واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے، غزہ میں اسرائیلی اور امریکی کارروائیاں انسانی تاریخ کی بدترین درندگی ہیں اور عالمی قوتیں امن کی دعویدار ہونے کے باوجود جنگ و تباہی پھیلا رہی ہیں۔

پریس کانفرنس کے اختتام پر انہوں نے بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ محض فوجی آپریشنز مسائل کا مستقل حل نہیں بلکہ پائیدار امن کے لیے سیاسی اور سماجی حکمت عملی ناگزیر ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا