کوئٹہ، گرینڈ الائنس اور ملازمین میں مذاکرات کا سلسلہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
آج کوئٹہ میں صوبائی وزیر خزانہ نے گرینڈ الائنس اور آل پارٹیز کے نمائندوں سے ملاقات کی۔ ملاقات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اگلی ملاقات میں وزیراعلیٰ بھی ہونگے۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کے صوبائی وزیر خزانہ و معدنیات شعیب نوشیروانی سے آل پارٹیز قائدین اور گرینڈ الائنس کے رہنماؤں پر مشتمل ایک وفد نے ملاقات کی۔ وفد میں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی، نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدر ڈاکٹر اسحاق بلوچ، عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء و رکن صوبائی اسمبلی انجینئر زمرک خان اچکزئی، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے، عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء سردار رشید خان ناصر، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماء عصمت یاری، نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماء عنایت شاہ، گرینڈ الائنس کے آرگنائزر عبدالقدوس کاکڑ، علی اصغر بنگلزئی، نیشنل پارٹی کے مرکزی لیبر سیکرٹری داد محمد بلوچ، جی ڈی اے کے نمائندہ آغا زاہد اور دیگر شامل تھے۔ ملاقات میں گرینڈ الائنس کے زیر التوا مسائل کے حل کے لئے مثبت پیش رفت اور حکمت عملی طے کی گئی۔ اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ آئندہ مذاکرات میں وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز خان بگٹی، حکومت کی جانب سے منتخب مجاز کمیٹی، آل پارٹیز کانفرنس کے رہنماء اور گرینڈ الائنس کے نمائندے شریک ہوں گے۔ جہاں تمام زیر التوا امور اور ملازمین کو درپیش مسائل کو حتمی شکل دے کر جامع حکمت عملی اور لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نیشنل پارٹی کے مرکزی گرینڈ الائنس کے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔