Jasarat News:
2026-07-24@03:55:45 GMT

پودینہ: قدرتی ٹھنڈک اور شفا بخش خوبیوں سے بھرپور جڑی بوٹی

اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ماہرینِ غذائیت اور طبِ قدرتی کے مطابق پودینہ ایک ایسی سادہ مگر بے حد مفید جڑی بوٹی ہے جو صدیوں سے کھانوں، مشروبات اور گھریلو علاج میں استعمال ہو رہی ہے۔ جدید تحقیق بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ پودینہ نہ صرف ذائقہ بڑھاتا ہے بلکہ صحت کے لیے کئی طرح سے فائدہ مند ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پودینہ ہاضمے کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس میں موجود قدرتی اجزا معدے کی تیزابیت کم کرتے ہیں اور بدہضمی، گیس اور متلی جیسے مسائل میں آرام پہنچاتے ہیں۔ اسی وجہ سے اکثر لوگ کھانے کے بعد پودینے کی چٹنی یا قہوہ استعمال کرتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق پودینے میں اینٹی آکسیڈنٹس اور اینٹی بیکٹیریل خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں جو جسم کو جراثیم سے لڑنے میں مدد دیتی ہیں۔ اس کے پتے چبانے سے سانس کی بدبو کم ہوتی ہے اور منہ کی صفائی بہتر رہتی ہے، یہی وجہ ہے کہ کئی ٹوتھ پیسٹ اور ماؤتھ واش میں پودینے کا عرق شامل کیا جاتا ہے۔

ماہرینِ صحت مزید بتاتے ہیں کہ گرمی کے موسم میں پودینے کا استعمال جسم کو ٹھنڈک دیتا ہے اور پانی کی کمی کے اثرات کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ پودینے کا شربت یا لیموں پانی میں اس کے پتے شامل کرنے سے نہ صرف ذائقہ بہتر ہوتا ہے بلکہ تازگی کا احساس بھی بڑھتا ہے۔

جلد کے ماہرین کے مطابق پودینے کا رس یا پیسٹ جلد پر لگانے سے خارش اور جلن میں کمی آ سکتی ہے، حساس جلد والے افراد کو استعمال سے پہلے احتیاط برتنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ پودینہ قدرتی جڑی بوٹی ہے، لیکن کسی بھی چیز کا ضرورت سے زیادہ استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے، اس لیے اسے معتدل مقدار میں استعمال کرنا چاہیے۔

صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ روزمرہ غذا میں پودینہ شامل کرنا ایک آسان اور سستا طریقہ ہے جس سے ذائقے کے ساتھ ساتھ صحت کے فوائد بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہ سادہ سا پودا دنیا بھر میں مقبول قدرتی نعمت سمجھا جاتا ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پودینے کا

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ