پودینہ: قدرتی ٹھنڈک اور شفا بخش خوبیوں سے بھرپور جڑی بوٹی
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماہرینِ غذائیت اور طبِ قدرتی کے مطابق پودینہ ایک ایسی سادہ مگر بے حد مفید جڑی بوٹی ہے جو صدیوں سے کھانوں، مشروبات اور گھریلو علاج میں استعمال ہو رہی ہے۔ جدید تحقیق بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ پودینہ نہ صرف ذائقہ بڑھاتا ہے بلکہ صحت کے لیے کئی طرح سے فائدہ مند ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پودینہ ہاضمے کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس میں موجود قدرتی اجزا معدے کی تیزابیت کم کرتے ہیں اور بدہضمی، گیس اور متلی جیسے مسائل میں آرام پہنچاتے ہیں۔ اسی وجہ سے اکثر لوگ کھانے کے بعد پودینے کی چٹنی یا قہوہ استعمال کرتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق پودینے میں اینٹی آکسیڈنٹس اور اینٹی بیکٹیریل خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں جو جسم کو جراثیم سے لڑنے میں مدد دیتی ہیں۔ اس کے پتے چبانے سے سانس کی بدبو کم ہوتی ہے اور منہ کی صفائی بہتر رہتی ہے، یہی وجہ ہے کہ کئی ٹوتھ پیسٹ اور ماؤتھ واش میں پودینے کا عرق شامل کیا جاتا ہے۔
ماہرینِ صحت مزید بتاتے ہیں کہ گرمی کے موسم میں پودینے کا استعمال جسم کو ٹھنڈک دیتا ہے اور پانی کی کمی کے اثرات کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ پودینے کا شربت یا لیموں پانی میں اس کے پتے شامل کرنے سے نہ صرف ذائقہ بہتر ہوتا ہے بلکہ تازگی کا احساس بھی بڑھتا ہے۔
جلد کے ماہرین کے مطابق پودینے کا رس یا پیسٹ جلد پر لگانے سے خارش اور جلن میں کمی آ سکتی ہے، حساس جلد والے افراد کو استعمال سے پہلے احتیاط برتنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ پودینہ قدرتی جڑی بوٹی ہے، لیکن کسی بھی چیز کا ضرورت سے زیادہ استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے، اس لیے اسے معتدل مقدار میں استعمال کرنا چاہیے۔
صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ روزمرہ غذا میں پودینہ شامل کرنا ایک آسان اور سستا طریقہ ہے جس سے ذائقے کے ساتھ ساتھ صحت کے فوائد بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہ سادہ سا پودا دنیا بھر میں مقبول قدرتی نعمت سمجھا جاتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پودینے کا
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔