Islam Times:
2026-07-24@00:55:08 GMT

جانیں بچانے والے!

اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT

جانیں بچانے والے!

اسلام ٹائمز: شہید عون عباس نے اپنی جان قربان کر کے انسانیت کی حفاظت کی، عون عباس کی شہادت شجاعت، استقامت اور وفا کی علامت ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق مسجد کے ہال میں دو ہزار سے زائد نمازی موجود تھے، اگر خودکش حملہ آور مسجد کے ہال میں داخل ہونے میں کامیاب ہو جاتا تو شہادتیں کئی گنا زیادہ ہوسکتی تھیں۔ شہید کے بھائی کے مطابق ان کا سر اس حملہ میں تن سے جدا ہوگیا تھا، جو کہ قریبی گلی سے برآمد ہوا۔ اگر یوں کہا جائے کہ شہید عون عباس نے دشمن کے منصوبہ کو کامیاب نہیں ہونے دیا تو غلط نہ ہوگا۔ رپورٹ: سید عدیل عباس

کسی ایک انسان کی جان بچانے کو پوری انسانیت کی جان بچانا قرار دیا گیا ہے، جہاں دہشتگردوں کی بدشکل صورت میں جانیں لینے والے ہوتے ہیں وہیں پاکیزہ مائیں جانیں بچانے والے بہادر سپوت بھی پیدا کرتی ہیں۔ پاکستانی قوم میں بھی ایسے عظیم ہیروز گزرے ہیں، جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ تو پیش کرتے ہوئے شہادت کو گلے لگا لیا تاہم سینکڑوں ماوں کی گودیاں اجڑنے سے بچالیں، جن کی وجہ سے بہت سے بہنوں کے سہارے آج ایک نئی زندگی گزار رہے ہیں، جن کو تاریخ ہمیشہ یاد رکھی گی۔ ان نوجوانوں کی قربانیاں ہمیشہ سنہرے الفاظ میں یاد رکھی جائیں گی جہنوں نے بہت سے بچوں کو یتیمی کے درد سے بچایا۔ مکتب اہلبیتؑ سے تعلق رکھنے والےتین عظیم نوجوان جن کی عظمت جتنی لکھا جائے تو شائد الفاظ کم پڑ جائیں۔ ان میں ایک شہید اعتزاز حسن ہے، خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو سے تعلق رکھنے والے اعتزاز حسن نے 6 جنوری 2014ء کو ہنگو کے ایک اسکول پر خودکش بمبار کے مزموم عزائم کو ناکام بنادیا۔

اس روز دہشتگرد نے اس اسکول میں داخل ہونے کی کوشش کی جہاں 2000 سے زائد بچے زیرِ تعلیم تھے۔ اسکول کے طالبِ علم اعتزاز حسن نے اپنی جان قربان کر کے خودکش بمبار کو اسکول میں داخل ہونے سے پہلے روک لیا اور سینکڑوں معصوم بچوں کی زندگیاں بچا کر خود جامِ شہادت نوش کیا۔ اس موقع پر شہید کی ماں نے تاریخی الفاظ ادا کرتے ہوئے کہا کہ "میرا بیٹا مجھے رلا گیا مگر بہت سے ماؤں کو رونے سے بچا گیا"۔ شہید اعتزاز حسن ایک کم عمر مگر بلند حوصلہ ہیرو، جس نے اپنی جان دے کر سینکڑوں معصوم جانیں بچائیں۔ وہ صرف ایک طالب علم نہیں تھا، وہ جرات، ایثار اور وطن سے محبت کی زندہ مثال تھا۔ اسی طرح ایک دوسرا نوجوان پاراچنار سے تعلق رکھنے والا شہید عباس علی ہے، جس نے 13 فروری 2015ء کو امامیہ مسجد حیات آباد پشاور میں دہشت گردوں کی مسلسل ایک گھنٹے کی سخت فائرنگ کے دوران بہادری اور شجاعت کی وہ اعلیٰ مثال قائم کی، جس نے ثابت کیا کہ وہ حقیقی طور پر پیرو کربلا تھے۔

دہشتگردوں کے حملہ کے دوران کئی نمازی مسجد کے ایک کونے میں بیٹھے تھے، یکے بعد دیگرے خودکش حملہ آور مسجد میں داخل ہوئے، 4 خودکش حملہ آوروں نے بارودی مواد سے مسجد کو منہدم کرنے کی کوشش کی، اسی دوران شہید عباس علی نے اپنی جان پر کھیل کر ایک خودکش بمبار کو دبوج لیا اور بے شمار نمازیوں کی جانیں بچائیں اور خود شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوگئے، اس عظیم کارنامہ پر شہید کو تمغہ شجاعت سے نوازا گیا۔ عباس علی نے عبادت گاہ کے تقدس اور سینکڑوں جانوں پر اپنی جان قربان کر کے یہ ثابت کیا کہ ایمان اور حق کی راہ میں قربانی سب سے بڑی عبادت ہے۔ اُن کا لہو اس بات کی گواہی ہے کہ ظلم کبھی عبادت گزاروں کے حوصلے پست نہیں کر سکتا۔ ان عظیم شہدائے راہ حق کی فہرست میں تیسرا نام شہید عون عباس کا آتا ہے، جس نے 6 فروری 2026 کو ترلائی مسجد خدیجہ الکبریٰ (س) اسلام آباد میں فائرنگ کی آواز سنی اور نماز توڑ کر خودکش بمبار کو روکنے کی کوشش کی، جہاں دہشت گرد نے خود کو ہال میں پہنچنے سے پہلے خود کو اڑا لیا۔

شہید عون عباس نے اپنی جان قربان کر کے انسانیت کی حفاظت کی، عون عباس کی شہادت شجاعت، استقامت اور وفا کی علامت ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق مسجد کے ہال میں دو ہزار سے زائد نمازی موجود تھے، اگر خودکش حملہ آور مسجد کے ہال میں داخل ہونے میں کامیاب ہو جاتا تو شہادتیں کئی گنا زیادہ ہوسکتی تھیں۔ شہید کے بھائی کے مطابق ان کا سر اس حملہ میں تن سے جدا ہوگیا تھا، جو کہ قریبی گلی سے برآمد ہوا۔ اگر یوں کہا جائے کہ شہید عون عباس نے دشمن کے منصوبہ کو کامیاب نہیں ہونے دیا تو غلط نہ ہوگا۔ یاد رہے کہ شہید عون عباس کی دو ماہ بعد شادی تھی۔ وہ سہرا جو اس کی ماں نے اس کے سر پر سجا دیکھنا تھا، وہی سہرا اس کی قبر پر لگایا گیا۔ عون عباس خود تو دولہا نہ بن سکا، لیکن کئی خواتین کے سہاگ بچا گیا، شہید اپنی ماں کے دل کو تو چھلنی کرگیا لیکن سینکڑوں ماوں کو ساری عمر کے روگ بچاگیا۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اپنی جان قربان کر کے شہید عون عباس نے مسجد کے ہال میں میں داخل ہونے نے اپنی جان خودکش حملہ کے مطابق

پڑھیں:

مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی

ویب ڈیسک : مستونگ میں ہونے والے قاتلانہ حملے میں سیشن جج مستونگ عبدالحکیم کاکڑ اور گن مین شہید ہو گئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری شدید زخمی ہوئے۔

حکومت بلوچستان نے مستونگ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حکم دے دیاہے۔ معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کا کہنا ہے کہ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کی شہادت انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

 معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کے مطابق وکلاء اور ججز کو نشانہ بنانا ایک گہری سازش کا حصہ ہے،دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔

 وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے مستونگ حملے میں زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سے رابطہ کرکے ان کی خیریت دریافت کی اوران کی مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیاہے۔

 وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ قانون کے محافظوں پر حملہ ناقابل برداشت ہے، ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا،حکومت عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہر قدم پر کھڑی ہے۔ 

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار