Islam Times:
2026-06-03@00:12:30 GMT

جانیں بچانے والے!

اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT

جانیں بچانے والے!

اسلام ٹائمز: شہید عون عباس نے اپنی جان قربان کر کے انسانیت کی حفاظت کی، عون عباس کی شہادت شجاعت، استقامت اور وفا کی علامت ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق مسجد کے ہال میں دو ہزار سے زائد نمازی موجود تھے، اگر خودکش حملہ آور مسجد کے ہال میں داخل ہونے میں کامیاب ہو جاتا تو شہادتیں کئی گنا زیادہ ہوسکتی تھیں۔ شہید کے بھائی کے مطابق ان کا سر اس حملہ میں تن سے جدا ہوگیا تھا، جو کہ قریبی گلی سے برآمد ہوا۔ اگر یوں کہا جائے کہ شہید عون عباس نے دشمن کے منصوبہ کو کامیاب نہیں ہونے دیا تو غلط نہ ہوگا۔ رپورٹ: سید عدیل عباس

کسی ایک انسان کی جان بچانے کو پوری انسانیت کی جان بچانا قرار دیا گیا ہے، جہاں دہشتگردوں کی بدشکل صورت میں جانیں لینے والے ہوتے ہیں وہیں پاکیزہ مائیں جانیں بچانے والے بہادر سپوت بھی پیدا کرتی ہیں۔ پاکستانی قوم میں بھی ایسے عظیم ہیروز گزرے ہیں، جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ تو پیش کرتے ہوئے شہادت کو گلے لگا لیا تاہم سینکڑوں ماوں کی گودیاں اجڑنے سے بچالیں، جن کی وجہ سے بہت سے بہنوں کے سہارے آج ایک نئی زندگی گزار رہے ہیں، جن کو تاریخ ہمیشہ یاد رکھی گی۔ ان نوجوانوں کی قربانیاں ہمیشہ سنہرے الفاظ میں یاد رکھی جائیں گی جہنوں نے بہت سے بچوں کو یتیمی کے درد سے بچایا۔ مکتب اہلبیتؑ سے تعلق رکھنے والےتین عظیم نوجوان جن کی عظمت جتنی لکھا جائے تو شائد الفاظ کم پڑ جائیں۔ ان میں ایک شہید اعتزاز حسن ہے، خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو سے تعلق رکھنے والے اعتزاز حسن نے 6 جنوری 2014ء کو ہنگو کے ایک اسکول پر خودکش بمبار کے مزموم عزائم کو ناکام بنادیا۔

اس روز دہشتگرد نے اس اسکول میں داخل ہونے کی کوشش کی جہاں 2000 سے زائد بچے زیرِ تعلیم تھے۔ اسکول کے طالبِ علم اعتزاز حسن نے اپنی جان قربان کر کے خودکش بمبار کو اسکول میں داخل ہونے سے پہلے روک لیا اور سینکڑوں معصوم بچوں کی زندگیاں بچا کر خود جامِ شہادت نوش کیا۔ اس موقع پر شہید کی ماں نے تاریخی الفاظ ادا کرتے ہوئے کہا کہ "میرا بیٹا مجھے رلا گیا مگر بہت سے ماؤں کو رونے سے بچا گیا"۔ شہید اعتزاز حسن ایک کم عمر مگر بلند حوصلہ ہیرو، جس نے اپنی جان دے کر سینکڑوں معصوم جانیں بچائیں۔ وہ صرف ایک طالب علم نہیں تھا، وہ جرات، ایثار اور وطن سے محبت کی زندہ مثال تھا۔ اسی طرح ایک دوسرا نوجوان پاراچنار سے تعلق رکھنے والا شہید عباس علی ہے، جس نے 13 فروری 2015ء کو امامیہ مسجد حیات آباد پشاور میں دہشت گردوں کی مسلسل ایک گھنٹے کی سخت فائرنگ کے دوران بہادری اور شجاعت کی وہ اعلیٰ مثال قائم کی، جس نے ثابت کیا کہ وہ حقیقی طور پر پیرو کربلا تھے۔

دہشتگردوں کے حملہ کے دوران کئی نمازی مسجد کے ایک کونے میں بیٹھے تھے، یکے بعد دیگرے خودکش حملہ آور مسجد میں داخل ہوئے، 4 خودکش حملہ آوروں نے بارودی مواد سے مسجد کو منہدم کرنے کی کوشش کی، اسی دوران شہید عباس علی نے اپنی جان پر کھیل کر ایک خودکش بمبار کو دبوج لیا اور بے شمار نمازیوں کی جانیں بچائیں اور خود شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوگئے، اس عظیم کارنامہ پر شہید کو تمغہ شجاعت سے نوازا گیا۔ عباس علی نے عبادت گاہ کے تقدس اور سینکڑوں جانوں پر اپنی جان قربان کر کے یہ ثابت کیا کہ ایمان اور حق کی راہ میں قربانی سب سے بڑی عبادت ہے۔ اُن کا لہو اس بات کی گواہی ہے کہ ظلم کبھی عبادت گزاروں کے حوصلے پست نہیں کر سکتا۔ ان عظیم شہدائے راہ حق کی فہرست میں تیسرا نام شہید عون عباس کا آتا ہے، جس نے 6 فروری 2026 کو ترلائی مسجد خدیجہ الکبریٰ (س) اسلام آباد میں فائرنگ کی آواز سنی اور نماز توڑ کر خودکش بمبار کو روکنے کی کوشش کی، جہاں دہشت گرد نے خود کو ہال میں پہنچنے سے پہلے خود کو اڑا لیا۔

شہید عون عباس نے اپنی جان قربان کر کے انسانیت کی حفاظت کی، عون عباس کی شہادت شجاعت، استقامت اور وفا کی علامت ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق مسجد کے ہال میں دو ہزار سے زائد نمازی موجود تھے، اگر خودکش حملہ آور مسجد کے ہال میں داخل ہونے میں کامیاب ہو جاتا تو شہادتیں کئی گنا زیادہ ہوسکتی تھیں۔ شہید کے بھائی کے مطابق ان کا سر اس حملہ میں تن سے جدا ہوگیا تھا، جو کہ قریبی گلی سے برآمد ہوا۔ اگر یوں کہا جائے کہ شہید عون عباس نے دشمن کے منصوبہ کو کامیاب نہیں ہونے دیا تو غلط نہ ہوگا۔ یاد رہے کہ شہید عون عباس کی دو ماہ بعد شادی تھی۔ وہ سہرا جو اس کی ماں نے اس کے سر پر سجا دیکھنا تھا، وہی سہرا اس کی قبر پر لگایا گیا۔ عون عباس خود تو دولہا نہ بن سکا، لیکن کئی خواتین کے سہاگ بچا گیا، شہید اپنی ماں کے دل کو تو چھلنی کرگیا لیکن سینکڑوں ماوں کو ساری عمر کے روگ بچاگیا۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اپنی جان قربان کر کے شہید عون عباس نے مسجد کے ہال میں میں داخل ہونے نے اپنی جان خودکش حملہ کے مطابق

پڑھیں:

مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز

گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔

پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟

ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔

الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔

الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔

ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔

گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں