بابا ئے قوم ،شہیدِ کشمیر مقبول بٹ کی 42ویں برسی کے موقع پر برطانوی کشمیریوں کے زیرِ اہتمام لندن میں پرامن احتجاجی مارچ
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
بابا ئے قوم ،شہیدِ کشمیر مقبول بٹ کی 42ویں برسی کے موقع پر برطانوی کشمیریوں کے زیرِ اہتمام لندن میں پرامن احتجاجی مارچ WhatsAppFacebookTwitter 0 12 February, 2026 سب نیوز
لندن (سب نیوز)بابا ئے قوم ،شہیدِ کشمیر مقبول بٹ کی 42ویں برسی کے موقع پر برطانوی کشمیریوں کے زیرِ اہتمام لندن میں ایک پرامن احتجاجی مارچ منعقد کیا گیا۔ یہ مارچ پارلیمنٹ اسکوائر سے شروع ہو کر بھارتی ہائی کمیشن، لندن تک پہنچا، جہاں مظاہرین نے مقبول بٹ شہید کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت میں نعرے بازی کی۔ مارچ کے شرکا نے سیاسی جماعتوں کے جھنڈے، بینرز اور مقبول بٹ شہید کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔ مظاہرین نے بھارتی حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر کے عوام سے کیے گئے تاریخی وعدوں کی عدم تکمیل، مسلسل سیاسی جبر اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا۔
احتجاج کے دوران مختلف سیاسی رہنماں اور تنظیمی نمائندوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے، مقبول بٹ شہید کی جدوجہد، جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت پر تفصیلی موقف پیش کیا۔ اس احتجاجی مارچ کی قیادت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنماوں آفتاب احمد، سردار مہتاب احمد، ساجد رشید، صابر گل، لیاقت لون، تحسین گیلانی، شکیل جرال اور فرید ایاز نے کی۔ جے کے نیپ کی جانب سے خواجہ حسن محمود، ساجد شاہین، سلیم یاس،ضیا احمد نے نمائندگی کی، پی آر ایف / این ایس ایف کی طرف سے کامریڈ عرفان یعقوب اور آصف خان نے شرکت کی جبکہ کے ایف ایم کے محمد یاسر بھی احتجاج میں شریک ہوئے۔
مظاہرین نے غیر قانونی حراستوں، جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، خواتین پر تشدد، پیلٹ گنز کے استعمال اور اظہارِ رائے پر پابندیوں کی سخت مذمت کی۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ تمام سیاسی قیدیوں، بشمول یاسین ملک اور شبیر شاہ، کو فوری رہا کیا جائے، مقبول بٹ شہید کی باقیات ان کے خاندان کے حوالے کی جائیں، اور جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا فوری خاتمہ کیا جائے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کشمیری عوام کو انصاف، وقار اور حقِ خودارادیت ملنے اور آزاد خودمختار جموں کشمیر کے قیام تک جدوجہد ہر سطح پر جاری رہے گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیر داخلہ محسن نقوی اور طلال چوہدری سے امریکی محکمہ خارجہ کے معاون کی اہم ملاقات وزیر داخلہ محسن نقوی اور طلال چوہدری سے امریکی محکمہ خارجہ کے معاون کی اہم ملاقات وزیراعظم کی صدرمملکت سے ملاقات، غزہ امن بورڈ سمیت اہم قومی و داخلی امور پر تبادلہ خیال آئیں سب کچھ بھلا کر آگے بڑھیں ورنہ کارکنان نکل آئے تو آپ کو بھاگنے نہیں دینگے، پی ٹی آئی قیادت سی ڈی اے کا سیکٹر ڈی 12کی پراپرٹیز کے حوالے سے مکمل ڈیجیٹائزیشن نظام کا نفاذ وفاقی ٹیکس محتسب کا آئی سی سی آئی کا دورہ، ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے کیخلاف زیرو ٹالرنس کی یقین دہانی حکومت نے نیٹ میٹرنگ صارفین کو نیٹ بلنگ پر منتقل کرنے کا عمل روک دیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مقبول بٹ شہید مظاہرین نے
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔