بھارت امریکہ مجوزہ تجارتی معاہدے سے مقبوضہ کشمیر کی معیشت کو نقصان پہنچے گا، عمر عبداللہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
جموں میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا اس حوالے سے تحفظات بالکل جائز اور حقائق پر مبنی ہیں، میں کشمیر کا وزیر اعلیٰ ہوں اور کشمیریوں کے مفاد کے حوالے سے آواز اٹھانا میری ذمہ داری ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدہ سے مقبوضہ علاقے کی معیشت خاص طور پر باغبانی کے شعبے کو سخت نقصان پہنچنے گا۔ ذرائع کے مطابق عمر عبداللہ نے جموں میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ علاقے کی معیشت کا مکمل انحصار خشک میوہ جات، تازہ پھلوں پر ہے اور اگر یہ چیزیں بغیر کسی ٹیرف کے امریکہ سے آنا شروع ہو گئیں تو اس کا براہ راست کشمیر کی معیشت پر اثرپڑ ے گا۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ اس حوالے سے تحفظات بالکل جائز اور حقائق پر مبنی ہیں، میں کشمیر کا وزیر اعلیٰ ہوں اور کشمیریوں کے مفاد کے حوالے سے آواز اٹھانا میری ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ اس مجوزہ معاہدے سے ہمارا بہت نقصان ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عمر عبداللہ حوالے سے کی معیشت
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔