Express News:
2026-06-03@00:27:55 GMT

غیبت باعث ہلاکت

اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT

اﷲ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو، کیا تم میں کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمھیں ناگوار ہوگا اور اﷲ سے ڈرو۔ بے شک! اﷲ بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے ۔‘‘ (کنز الایمان)

اس آیت پاک میں اﷲ تعالیٰ نے غیبت سے منع فرمایا ہے اور غیبت کرنے والے کو مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دی ہے۔

پیارے آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا، مفہوم: ’’غیبت سے اجتناب کرو، کیوں کہ غیبت زنا سے زیادہ بُری چیز ہے ۔ زنا کی توبہ قبول کر لی جاتی ہے لیکن غیبت کی توبہ قبول نہیں کی جاتی، جب تک وہ آدمی جس کی غیبت کی ہو وہ معاف نہ کر دے ۔‘‘ (کیمیائے سعادت)

حدیث شریف کا مفہوم: ’’غیبت یہ ہے کہ مسلمان بھائی کی پیٹھ پیچھے ایسے بات کہی جائے جو اسے ناگوار گزرے ۔ اگر وہ بات سچی ہے تو غیبت ہے ورنہ بہتان۔‘‘ (خزائن العرفان)

اس سے معلوم ہُوا کسی کی عدم موجودی میں ایسی بات نہ کہی جائے جو اسے ناپسند گزرتی ہو، اگرچہ کہنے والے نے سچ کہا ہو۔ اگر وہ بات جو غیر موجودی میں کہی گئی، دروغ اور جھوٹ ہے تو یہ غیبت نہیں بلکہ بہتان ہے۔

اﷲ تعالیٰ نے غیبت سے منع فرمانے کے بعد فرمایا، مفہوم: ’’کیا تم میں کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھائے، پھر فرمایا کہ تمھیں یہ ناگوار ہوگا کہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھاؤ۔ مطلب یہ کہ طبعی طور پر تم یہ گوارا نہیں کرو گے کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھاؤ۔ بالکل اسی طرح تم شرعاً گوارا نہ کرو کہ میں کسی کی غیبت کروں، کیوں کہ غیبت کی عقوبت اس سے زیادہ ہے کہ تم اپنے مردار بھائی کا گوشت کھاؤ۔‘‘ (ابن کثیر)

غیبت کتنی ہلاکت خیز ہے، اس بات سے بہ خوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ نماز روزہ جیسے بلند پایہ عظمت والی عبادت کی نورانیت کو بھی ختم کر دیتی ہے۔ مسلمانوں کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ غیبت صرف زبان ہی سے نہیں بلکہ ہاتھ آنکھ اور اشاروں سے بھی غیبت ممکن ہے اور یہ بھی حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔

لنگڑے کی طرح چلنا، ٹیڑھی آنکھیں بنانا کہ اس سے کسی کا حال واضح ہو جائے یہ سب غیبت ہے۔ اگر نام لے کر نہ کہے اور کہے: ایک آدمی نے ایسا کیا تو یہ غیبت نہیں ہے مگر جب حاضرین کو پتا چل جائے کہ اس سے مراد کون سا آدمی ہے تو پھر اس طرح بیان کرنا بھی حرام ہوگا کیوں کہ قائل کا مقصد سمجھانا ہے وہ کسی بھی طریقے سے ہو۔ (کیمیائے سعادت)

امام غزالیؒ کی مذکورہ بالا وضاحت سے پتا چلتا ہے کہ کسی کی نقل کرنا بھی غیبت ہے۔ مثلاً کوئی لنگڑا ہے تو اس کے لنگڑے پن کی نقل کرنا۔ کسی کی آواز درست نہیں ہے تو اس کی نقل کرنا وغیرہ، یہ سب بھی حرام اور جہنم میں لے جانے والے عمل ہیں۔ کچھ تعلیمی اداروں میں لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے کی نقلیں کر کے خوب ہنسی مذاق کی محفلیں گرم کرتے ہیں۔ ایسے ناعقل لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ غیبت ہے جو حرام ہے۔ خاص کر دینی مدرسے کے لڑکوں کو چوں کہ مدرسہ دارالعلوم ہوتا ہے۔ جب علم والے ہی بے عملی کریں گے تو بے علموں کا کیا حال ہو گا۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جو غیبت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ غیبت نہیں ہے۔ مثلاً جب ان کے سامنے کسی کا ذکر ہوتا ہے تو کہتے ہیں کہ الحمدﷲ! اﷲ تعالیٰ نے ہمیں اس بات سے محفوظ رکھا تاکہ لوگوں کو پتا چل جائے کہ وہ آدمی ایسا کرتا ہے۔ یا جیسے کہتے ہیں کہ فلاں تو بہت نیک تھا لیکن وہ بھی اہل دنیا میں پھنس گیا اور وہ بھی ہماری طرح لوگوں میں مبتلا ہوگیا۔ اسی قسم کی اور باتیں کہتے ہیں اور کبھی اپنی برائی ایسے کرتے ہیں جس سے دوسرے کی برائیاں واضح ہو جائیں اور جب کبھی ان کے رُو بہ رُو کسی کی غیبت کی جاتی ہے تو اس بات پر اظہار تعجب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کتنی انوکھی بات ہے، تاکہ غیبت کرنے والا ہوشیار ہو اور دوسرے بھی جانیں اور جو غافل تھے وہ بھی اس بات کو سن لیں، کہتے ہیں بھائی! ہمیں اس کے بارے میں سن کر بہت رنج پہنچا ہے۔ اﷲ تعالیٰ محفوظ رکھے۔ غرض یہ ہے کہ دوسرے لوگ آگاہ ہو جائیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے جب کسی کا ذکر درمیان میں آتا ہے تو کہتے ہیں اﷲ تعالیٰ ہمیں توبہ کی توفیق دے تاکہ لوگ سمجھ جائیں کہ فلاں آدمی نے گناہ کیا ہے یہ سب باتیں غیبت میں شامل ہیں۔ اور جب ایسی فضول باتوں سے مطلب نکل آتا ہے تو اس میں حماقت بھی پائی جاتی ہے۔ یہ جو خود کو نیک اور دوسرے سے بے زار کیا جا رہا ہے، اس میں دو گناہ ہوئے اور بے عقل اسے جان بیٹھے کہ ہم نے غیبت نہیں کی۔ (کیمیائے سعادت)

جیسے کسی کا عیب دوسرے سے کہنا صحیح نہیں ہے ایسے ہی اپنے دل سے کہنا بھی صحیح نہیں ہے۔ دل سے غیبت کا مطلب یہ ہے کہ آپ کسی کے بارے میں بُرا خیال کرو بغیر اس کے کہ آپ نے اپنی آنکھوں سے کوئی برا کام دیکھا ہو یا کانوں سے سنا ہو یا اس فعل بد پر آپ کو یقین کامل ہو۔

پیارے آقا ﷺ نے فرمایا، مفہوم:

’’اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کا مال، ان کا خون اور ان سے بدگمانی ان تینوں باتوں کو حرام کیا ہے۔ ان تینوں باتوں میں بھی کسی کے دل میں آئے اور اس پر یقین نہ ہو اور نہ دو عادل شاہدوں نے اس پر گواہی دی ہو تو سمجھ لو، یہ بات دل میں شیطان نے ڈالی ہے۔‘‘ (کیمیائے سعادت)

غیبت کرنا تو گناہ کبیرہ ہے ہی غیبت سننا بھی گناہ کبیرہ ہے۔ لہٰذا جب کوئی غیبت کر رہا ہو تو اس کو روک دیجیے! اور ثواب بھی کمائیے! کہ فرمان مصطفیٰ ﷺ کا مفہوم ہے:

’’جو اپنے (مسلمان) بھائیوں کی پیٹھ پیچھے اس کی عزت کا تحفظ کرے تو اﷲ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے کہ وہ اسے جہنّم سے آزاد کر دے۔‘‘ (مسند امام احمد)

اگر روک نہیں سکتے تو ممکن ہو تو وہاں سے اُٹھ جائیے۔ اُٹھ سکتے ہیں نہ ہی بات بدل سکتے ہیں، تو کم از کم دل میں بُرا جانیے یا اس بات کی طرف بے توجہی برتیے مثلاً بے زاری کے ساتھ ادھر اُدھر دیکھیے ، بار بار گھڑی دیکھیے وغیرہ۔

معزز قارئین! کانپ جائیے اور ہیبت خدا وندی سے مرعوب ہو کر غیب سے توبہ کر ہی لیجیے کہ اس کی وجہ سے گناہوں کا بوجھ تو سر پر آتا ہی ہے اور ساتھ ہی نیکیاں بھی مٹ جاتی ہیں۔

روایت کا مفہوم ہے: ’’انسان قیامت کے روز اپنا نامۂ اعمال نیکیوں سے خالی دیکھ کر گھبرا کر کہے گا: میں نے جو فلاں فلاں نیکیاں کی تھیں، وہ کہاں گئیں ؟ کہا جائے گا: تُونے جو غیبتیں کی تھیں اس وجہ سے مٹادی گئی ہیں ۔‘‘ (ترغیب)

لہٰذا اب یہ علم ہونا ضروری ہے کہ غیبت کرنے والا دل کی بیماری میں مبتلا ہے ا س کا علاج کرنا چاہیے۔ اس کا علاج دو طرح سے ہے ۔

علمی علاج : وہ یہ ہے کہ غیبت کی مذمت میں جو احادیث آئی ہیں ان پر غور و خوض کرے اور اچھی طرح سمجھے کہ غیبت کی وجہ سے اس کی نیکیاں کسی کے نامۂ اعمال میں چلی جائیں گی اور وہ خود خالی ہاتھ رہ جائے گا۔ پیارے آقا ﷺ نے فرمایا! انسان کی نیکیوں کو غیبت ایسے نابود کر دیتی ہے جیسے آگ سوکھی لکڑی کو۔

عملی علاج: یہ ہے کہ اپنی غیبت سے خوف کرے۔ اگر خود میں کچھ نقص پاتا ہے تو سمجھے کہ وہ آدمی اپنے عیب میں اس کی طرح ہی معذور ہے اور اگر اپنی ذات میں کوئی کمی اور نقص نہیں پاتا تو اچھی طرح سمجھ لے کہ اپنے عیب سے غافل رہنا بھی ایک عظیم عیب ہے۔ غیبت کرنا حرام ہے جیسے جھوٹ کہنا لیکن ضرورت اور حاجت کے پیش نظر یہ عذروں کی وجہ سے مباح ہے۔ بادشاہ یا قاضی کے سامنے فریاد کرنا، اس وقت غیبت صحیح ہے یا کسی ایسے آدمی کے رو بہ رو کہنا جس سے مدد کا طالب ہو۔ لیکن ایسے آدمی کے سامنے جس سے اعانت کی اُمید نہ ہو۔ مثلاً ظالم سے ظلم کو بیان کرنا صحیح نہیں ہے۔ کسی جگہ لڑائی یا فتنہ دیکھ کر کسی ایسے آدمی سے کہنا جو احتساب کی طاقت اور فساد پھیلانے والے کو باز رکھ سکتا ہو۔ کسی کے شر سے بچنا چاہتا ہو جیسے کوئی چور اور اس پر کوئی آدمی بھروسا کرنا چاہتا ہے تو اس حالت میں عیب ظاہر کر دینا صحیح اور روا ہے۔ اور اسے چھپانا مسلمان کے ساتھ دھوکا کرنے کے مترادف ہے۔ ایک عذر یہ ہے کہ وہ اس آدمی کے متعلق ہے جو اپنا فسق ظاہر کرے، جیسے ہیجڑا، شراب نوشی ایسے لوگ جو فسق کو معیوب نہیں جانتے ان کا ذکر کرنا روا ہے۔ (ریاض الصالحین)

معزز قارئین! غیبت اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس سے تو ہر مسلمان کو بہ ہر حال بچنا ضروری ہے۔ اگر بہ تقضائے بشریت غیبت کر چکے تو فوراً اس کا کفارہ ادا دینا چاہیے۔ غیبت کا کفارہ یہ ہے کہ توبہ کرے اور نادم و شرمندہ ہوتا کہ اﷲ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ رہے ۔

ہمارے آقا ﷺ نے فرمایا، مفہوم: ’’جس نے کسی کے مال یا عزت کے معاملہ میں اس پر ظلم کیا، تو وہ اس سے معافی مانگے، قبل اس کے کہ وہ دن آئے کہ جس دن نہ درہم رہے گا نہ دینار، مگر اس کی نیکیاں مظلوم کو دی جائیں گی۔ اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوں گی تو مظلوم کے گناہ اس کی گردن پر ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ (کیمیائے سعادت)

پیارے آقا ﷺ فرماتے ہیں، مفہوم : ’’میں شب معراج ایسی قوم سے گزرا جو اپنے چہروں اور سینوں کو تانبے کے ناخنوں سے چھیل رہے تھے ۔ میں نے پوچھا: اے جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں ؟ کہا: یہ لوگوں کی غیبت کرتے اور ان کی عزت خراب کرتے تھے۔‘‘ (ابو داؤد شریف)

حضرت سیدنا قتادہؓ فرماتے ہیں کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ عذاب قبر کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک تہائی عذاب غیبت سے۔ ایک تہائی چغلی سے اور ایک تہائی پیشاب (کے چھینٹوں سے خود کو نہ بچانے ) کی وجہ سے ہوتا ہے ۔‘‘ (احیاء العلوم)

اﷲ تعالیٰ سارے مسلمانوں کو غیبت کی تباہ کاریوں سے محفوظ و مامون رکھے اور تمام مسلمانوں کو نیکیوں سے محبت کرنے اور گناہوں سے نفرت کرنے کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کیمیائے سعادت بھائی کا گوشت پیارے ا قا ﷺ غیبت نہیں نے فرمایا اﷲ تعالی کی وجہ سے کرتے ہیں کہتے ہیں ہے تو اس یہ ہے کہ کہ اپنے نہیں ہے غیبت ہے کی غیبت کہ غیبت غیبت کی ہوتا ہے یہ غیبت ا ہے تو کہ وہ ا کسی کے اس بات ہے اور ہیں کہ کسی کا کسی کی

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی