حسینہ واجد کے شہر میں پولنگ اسٹیشن میں دھماکا، 3 افراد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈ ھاکا ( نمائندہ خصوصی)بنگلا دیش میں جین زی انقلاب کے بعد پہلے عام انتخابات کے دوران شیخ حسینہ کے شہر گوپال گنج کے صدر علاقے میں ایک پولنگ اسٹیشن کے قریب دیسی ساختہ بم سے حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہو گئے۔بنگلا دیشی اخبار پروتھوم آلو کے مطابق مذکورہ واقعہ صبح تقریباً ساڑھے 9بجے ریشما انٹرنیشنل اسکول پولنگ سینٹر میں پیش آیا، ووٹنگ کا عمل پرامن طریقے سے جاری تھا کہ اچانک قریبی نہر کے پار سے نامعلوم افراد نے دیسی ساختہ بم پھینکا۔دھماکے کے نتیجے میں سکونتھا مجمدار اور جمال حسین نامی دو انصار اہلکار زخمی ہوئے جبکہ آرام باغ علاقے کے ایک ووٹر کی 14 سالہ بیٹی آمنہ خاتون بھی زخمی ہو گئی۔دھماکے سے زخمی ہونے والے افراد کو فوری طور پر قریبی کلینک منتقل کیا گیا جہاں انہیں ابتدائی طبی امداد دی گئی، دھماکے سے پولنگ اسٹیشن کے مرکزی دروازے کو جزوی نقصان پہنچا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔