Jasarat News:
2026-06-02@22:07:44 GMT

’’زرخیزی اسکیم‘‘ کو توسیع دی جائے‘ گورنر اسٹیٹ بینک

اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (کامرس رپورٹر) بینک دولت پاکستان کی جانب سے کراچی میں زرعی قرضہ مشاورتی کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ جس میں زرعی قرضوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے ساتھ شمولیتی اور پائیدار زرعی مالیات کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب میں گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو میکرو اکنامک استحکام مل گیا ہے اور اب یہ نمو کے زیادہ پائیدار راستے پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 26ء کی پہلی سہ ماہی میں حقیقی جی ڈی پی کی نمو بڑھ کر 3.

7 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ پورے مالی سال کی معاشی نمو کا تخمینہ 3.75 سے 4.75 فیصد تک ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوری 2026ء تک عمومی مہنگائی کم ہو کر 5.8 فیصد پر آ چکی ہے، جس سے زری پالیسی اس قابل ہوئی کہ وہ نمو کو سہارا بھی دے اور قیمتیں مستحکم بھی رہیں۔ فراست پر مبنی پالیسیوں، پائیدار ترسیلات زر اور اجناس کی مستحکم قیمتوں کے باعث بیرونی کھاتہ بڑی حد تک قابو میں ہے۔گورنر نے زور دے کرکہا کہ زراعت کا شعبہ کھیتوں کی پیداواریت، دیہی روزگار کی معاونت اور غذائی سلامتی کو یقینی بنانے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے قدر اضافی ، مارکیٹ کے روابط اور زرعی شعبے کی پائیدار ترقی میں مدد دینے کے لیے زرعی مالی وساطت کو مضبوط بنانے کی اہمیت اجاگر کی۔ مالی سال 25ء کے دوران اسٹیٹ بینک اور بینکوں کی مشترکہ کوششوں سے 2,577 ارب روپے کے ریکارڈ زرعی قرضے جاری کیے گئے، جو سالانہ 16 فیصد نمو ہے۔ اسی رفتار کو برقرار رکھتے ہوئے مالی سال 26ء کی پہلی ششماہی میں زرعی قرضوں کی تقسیم بڑھ کر 1,412 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے، جبکہ قرض گیروں کی تعداد بڑھ کر 2.97 ملین ہو گئی ہے۔گورنر نے بینکوں سے کہا کہ وہ مالی خدمات سے محروم اور نیم محروم علاقوں ، بالخصوص قرض لینے والے چھوٹے کاشت کاروں کی تعداد تیزی سے بڑھانے کے لیے اسٹیٹ بینک کے اقدامات سے بھرپور استفادہ کریں۔ ان اقدامات میں چھوٹے کاشت کاروں اور نیم محروم علاقوں کے لیے رسک کوریج اسکیم اور زرعی قرضوں کے لیے اسٹیٹ بینک کا فلیگ شپ ڈجیٹل پلیٹ فارم’ زرخیز ی‘ (Zarkheze) شامل ہیں۔کمیٹی نے’ زرخیز ی‘ کے تحت ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا، جو پاکستان میں زرعی قرضے دینے کی ڈجیٹل ٹرانسفارمیشن کی جانب اہم قدم ہے۔ یہ پلیٹ فارم کاشت کاروں کی ڈجیٹل آن بورڈنگ، قرض کے معیاری تجزیے، اراضی اور فصل سے متعلق معلومات کے انضمام، اور قرضے کی درخواست سے لے کر اجرا تک مکمل نگرانی (اینڈ ٹو اینڈ ٹریس ایبلٹی) کی سہولت دیتا ہے، جبکہ وینڈر کے مربوط نیٹ ورک کے ذریعے یہ بھی یقینی بناتا ہے کہ قرضہ معیاری خام مال کے لیے ہی استعمال ہو۔گورنر نے اس بات پر زور دیا کہ ’زرخیزی‘ کو اتنا فروغ دیا جائے کہ یہ زرعی قرضے کی فراہمی کا بنیادی ذریعہ بن جائے، خاص طور پر چھوٹے قرضوں کو کاروباری لحاظ سے قابلِ عمل بنایا جاسکے اور قرض کی رسائی محض روایتی اور زیادہ حجم والے علاقوں تک نہ رہے بلکہ اسے بڑھا کر دور دراز علاقوں تک پھیلایا جا سکے۔ انہوں نے بینکوں کو ہدایت کی کہ درخواستوں پر بروقت کارروائی کریں، اس اسکیم کو اپنا سمجھیں ، اور وینڈر ایکو سسٹم کو مزید بہتر بنائیں تاکہ تصدیق شدہ زرعی خام مال اور مربوط مشاورتی خدمات تک کاشت کاروں کی رسائی بڑھے۔مزید برا?ں ، گورنر اسٹیٹ بینک نے بینکوں سے کہا کہ وہ مالی سال 26ء کے لیے زرعی قرض کے توسیعی منصوبوں پر مکمل عمل درآمد کریں۔ انہوں نے اس ضمن میں رسائی بڑھانے کے لیے صوبائی حکومتوں کے ساتھ اراضی کے ریکارڈ کی ڈجیٹائزیشن اور فِن ٹیک، ایگری ٹیک فرموں، اور مائکروفنانس اداروں کے ساتھ شراکت کی اہمیت پر زور دیا۔

کامرس رپورٹر گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کاشت کاروں اسٹیٹ بینک انہوں نے مالی سال کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری

فوٹو: فائل

کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی نے مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔  

اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔ 

 اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 

 اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔ 

صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال