Jasarat News:
2026-07-24@00:59:44 GMT

’’زرخیزی اسکیم‘‘ کو توسیع دی جائے‘ گورنر اسٹیٹ بینک

اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (کامرس رپورٹر) بینک دولت پاکستان کی جانب سے کراچی میں زرعی قرضہ مشاورتی کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ جس میں زرعی قرضوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے ساتھ شمولیتی اور پائیدار زرعی مالیات کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب میں گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو میکرو اکنامک استحکام مل گیا ہے اور اب یہ نمو کے زیادہ پائیدار راستے پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 26ء کی پہلی سہ ماہی میں حقیقی جی ڈی پی کی نمو بڑھ کر 3.

7 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ پورے مالی سال کی معاشی نمو کا تخمینہ 3.75 سے 4.75 فیصد تک ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوری 2026ء تک عمومی مہنگائی کم ہو کر 5.8 فیصد پر آ چکی ہے، جس سے زری پالیسی اس قابل ہوئی کہ وہ نمو کو سہارا بھی دے اور قیمتیں مستحکم بھی رہیں۔ فراست پر مبنی پالیسیوں، پائیدار ترسیلات زر اور اجناس کی مستحکم قیمتوں کے باعث بیرونی کھاتہ بڑی حد تک قابو میں ہے۔گورنر نے زور دے کرکہا کہ زراعت کا شعبہ کھیتوں کی پیداواریت، دیہی روزگار کی معاونت اور غذائی سلامتی کو یقینی بنانے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے قدر اضافی ، مارکیٹ کے روابط اور زرعی شعبے کی پائیدار ترقی میں مدد دینے کے لیے زرعی مالی وساطت کو مضبوط بنانے کی اہمیت اجاگر کی۔ مالی سال 25ء کے دوران اسٹیٹ بینک اور بینکوں کی مشترکہ کوششوں سے 2,577 ارب روپے کے ریکارڈ زرعی قرضے جاری کیے گئے، جو سالانہ 16 فیصد نمو ہے۔ اسی رفتار کو برقرار رکھتے ہوئے مالی سال 26ء کی پہلی ششماہی میں زرعی قرضوں کی تقسیم بڑھ کر 1,412 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے، جبکہ قرض گیروں کی تعداد بڑھ کر 2.97 ملین ہو گئی ہے۔گورنر نے بینکوں سے کہا کہ وہ مالی خدمات سے محروم اور نیم محروم علاقوں ، بالخصوص قرض لینے والے چھوٹے کاشت کاروں کی تعداد تیزی سے بڑھانے کے لیے اسٹیٹ بینک کے اقدامات سے بھرپور استفادہ کریں۔ ان اقدامات میں چھوٹے کاشت کاروں اور نیم محروم علاقوں کے لیے رسک کوریج اسکیم اور زرعی قرضوں کے لیے اسٹیٹ بینک کا فلیگ شپ ڈجیٹل پلیٹ فارم’ زرخیز ی‘ (Zarkheze) شامل ہیں۔کمیٹی نے’ زرخیز ی‘ کے تحت ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا، جو پاکستان میں زرعی قرضے دینے کی ڈجیٹل ٹرانسفارمیشن کی جانب اہم قدم ہے۔ یہ پلیٹ فارم کاشت کاروں کی ڈجیٹل آن بورڈنگ، قرض کے معیاری تجزیے، اراضی اور فصل سے متعلق معلومات کے انضمام، اور قرضے کی درخواست سے لے کر اجرا تک مکمل نگرانی (اینڈ ٹو اینڈ ٹریس ایبلٹی) کی سہولت دیتا ہے، جبکہ وینڈر کے مربوط نیٹ ورک کے ذریعے یہ بھی یقینی بناتا ہے کہ قرضہ معیاری خام مال کے لیے ہی استعمال ہو۔گورنر نے اس بات پر زور دیا کہ ’زرخیزی‘ کو اتنا فروغ دیا جائے کہ یہ زرعی قرضے کی فراہمی کا بنیادی ذریعہ بن جائے، خاص طور پر چھوٹے قرضوں کو کاروباری لحاظ سے قابلِ عمل بنایا جاسکے اور قرض کی رسائی محض روایتی اور زیادہ حجم والے علاقوں تک نہ رہے بلکہ اسے بڑھا کر دور دراز علاقوں تک پھیلایا جا سکے۔ انہوں نے بینکوں کو ہدایت کی کہ درخواستوں پر بروقت کارروائی کریں، اس اسکیم کو اپنا سمجھیں ، اور وینڈر ایکو سسٹم کو مزید بہتر بنائیں تاکہ تصدیق شدہ زرعی خام مال اور مربوط مشاورتی خدمات تک کاشت کاروں کی رسائی بڑھے۔مزید برا?ں ، گورنر اسٹیٹ بینک نے بینکوں سے کہا کہ وہ مالی سال 26ء کے لیے زرعی قرض کے توسیعی منصوبوں پر مکمل عمل درآمد کریں۔ انہوں نے اس ضمن میں رسائی بڑھانے کے لیے صوبائی حکومتوں کے ساتھ اراضی کے ریکارڈ کی ڈجیٹائزیشن اور فِن ٹیک، ایگری ٹیک فرموں، اور مائکروفنانس اداروں کے ساتھ شراکت کی اہمیت پر زور دیا۔

کامرس رپورٹر گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کاشت کاروں اسٹیٹ بینک انہوں نے مالی سال کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان