تراویح میں عورت کی امامت
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اگر کوئی خاتون حافظۂ قرآن ہو تو کیا وہ تراویح میں عورتوں کی امامت کرسکتی ہے؟ یہ سوال مجھ سے میرے کئی دوستوں نے کیا اور اس سلسلے میں میری رائے جاننی چاہی ہے۔
میرے نزدیک فرض اور نفل دونوں طرح کی نمازوں میں عورت عورتوں کی جماعت کی امامت کرسکتی ہے۔
اس کی دلیل دو امہات المؤمنین کا عمل ہے۔ مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے: سیدہ عائشہ اور سیدہ ام سلمہؓ عورتوں کی جماعت کی امامت کرتی تھیں۔ وہ صف سے آگے کھڑی ہونے کے بجائے صف کے وسط میں کھڑی ہوتی تھیں۔
مصنف عبدالرزاق میں یہی فتویٰ سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے بھی منقول ہے۔
اس سلسلے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے:
شوافع اور حنابلہ کے نزدیک عورت عورتوں کی جماعت کرسکتی ہے۔ ان کی دلیل مذکورہ بالا روایات ہیں۔
مالکیہ کے نزدیک فرض ہو یا نفل کسی نماز میں عورت کا عورتوں کی جماعت کی امامت کرنا درست نہیں ہے۔
احناف کہتے ہیں کہ عورتوں کی جماعت، خواہ اس کی امامت کوئی عورت ہی کیوں نہ کرے، فرائض اور نوافل دونوں میں مکروہ تحریمی ہے (الدر المختار)۔ اس کی دلیل وہ یہ دیتے ہیں کہ امام کا مقتدیوں سے آگے رہنا واجب ہے۔ چوں کہ عورت وسط صف میں کھڑی ہوتی ہے، اس لیے ترکِ واجب لازم آتا ہے۔ ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر عورتیں جماعت سے نماز پڑھ لیتی ہیں تو ان کی نماز درست ہوگی۔
سیدہ عائشہؓ سے متعلق روایت کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ ان کا یہ عمل ابتدائے اسلام میں تھا (ھدایہ)۔ بعد میں یہ اجازت منسوخ ہوگئی، یہ بات درست نہیں ہے۔ اللہ کے رسولؐ کی وفات کے وقت سیدہ عائشہ کی عمر صرف 18 برس تھی، بعد میں وہ تقریباً 50 برس مزید زندہ رہیں۔ اس لیے ان کے عمل کو نہ ابتدائے اسلام کا قرار دیا جاسکتا ہے نہ منسوخ کہا جاسکتا ہے۔
اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ کے عمل کو نقل کرنے والی سیدہ ام حسن تابعیہ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عہد نبوی کے بعد بھی امہات المؤمنین عورتوں کی جماعت کی امامت کرتی رہیں۔
اگر مسجدوں میں تراویح کی نماز ہو رہی ہو اور وہاں عورتوں کے لیے بھی انتظام ہو تو وہ اس میں شرکت کرسکتی ہیں۔ لیکن اگر گھروں میں تراویح کی نماز ہورہی ہو اور کوئی خاتون حافظۂ قرآن ہو، یا اسے قرآن کا خاصا حصہ یاد ہو تو وہ قرآن سنا سکتی ہے اور اس کی امامت میں عورتیں نماز پڑھ سکتی ہیں۔
ایک دوست نے سوال کیا کہ اگر گھر میں صرف میاں بیوی ہوں تو کیا بیوی شوہر کی امامت کرسکتی ہے؟ یا کیا عورت مردوں اور عورتوں کی مشترکہ جماعت کی امامت کرسکتی ہے؟ اس کا جواب ہے: نہیں۔ اس کے دلائل پھر کبھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عورتوں کی جماعت کی امامت کی امامت کرسکتی ہے کی نماز ہیں کہ
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔