رمضان کا چاند د‘ رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس 18 فروری کو ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور(مانیٹر نگ ڈ یسک )رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس 18 فروری کو پشاور میں ہوگا۔ جس کے لیے انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی۔سیکرٹری برائے اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور خیبرپختونخوا کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس ان کے دفتر پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری اوقاف، ایڈمنسٹریٹر اوقاف، سیکشن آفیسر اوقاف سمیت محکمہ اطلاعات، محکمہ ریلیف،ڈی جی ریسکیو 1122 اور پولیس ڈیپارٹمنٹ کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی 21 اراکین کے ساتھ 29 شعبان 1447ھ، بمطابق 18 فروری 2026ء کو پشاور کا دورہ کریں گے، جہاں رمضان المبارک کے چاند کی رویت کا باضابطہ اہتمام کیا جائے گا۔محکمہ اطلاعات کی جانب سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ریاض غفور نے میڈیا انتظامات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ تقریب کی جامع کوریج پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کے ذریعے یقینی بنائی جائے گی، ریسکیو 1122 نے تقریب کے دوران2 ایمبولینسیں،2 فائر وہیکلز اور متعلقہ عملے کی تعیناتی کی تصدیق کی جبکہ پولیس ڈیپارٹمنٹ نے فول پروف سیکورٹی انتظامات کی یقین دہانی کرائی۔سیکورٹی پلان کے تحت بی ڈی ایس کلیئرنس، سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب اور ڈرون نگرانی کو یقینی بنایا جائے گا اور حتمی سیکورٹی پلان 16 فروری تک مرتب کر لیا جائے گا۔ رمضان 1447ھ کا چاند 17 فروری 2026ء کو تقریباً شام 5 بجے پیدا ہوگا اور 18 فروری کی شام اس کے نظر آنے کے موزوں امکانات موجود ہیں۔اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ محکمہ اوقاف نشستوں کی ترتیب، مقام کے انتظامات اور پریس کانفرنس کے انعقاد کو یقینی بنائے گا اور پولیس کے ساتھ دیگر اقدامات میں مکمل معاونت فراہم کرے گا۔اجلاس کے اختتام پر تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنی ذمے داریاں بروقت مکمل کریں اور باہمی رابطہ برقرار رکھتے ہوئے کانفرنس اور رویت ہلال کے انتظامات کو پرامن، منظم اور مؤثر انداز میں یقینی بنائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رویت ہلال
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔